خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 180

خطابات شوری جلد اول ۱۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء نہیں ہو سکتا اور مئی سے سال شروع کرنے کے لئے تا کہ مجلس مشاورت میں بجٹ پر غور ہو سکے سات ماہ کا بجٹ ایک لاکھ ۲۴ ہزار کا بنایا ۔ مگر باوجود اس کے کہ اس میں ۱۵،۱۴ ہزار کی کمی کی گئی تھی مگر پھر بھی ۲۱ ۲۲ ہزار کی کے ماہ میں کمی رہی اور پچھلا قرضہ جو ۶۰ ہزار کے قریب تھا وہ اٹھاون ہزار کے قریب رہ گیا۔ اب اگر اسی طرح بجٹ کو چلایا جائے تو باوجود چندہ خاص کرنے کے سات آٹھ سال میں جماعت قرضہ ادا کر سکے گی اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ اخراجات میں اور کمی کی جائے ۔ پچھلے دنوں پندرہ دن لگا کر جہاں تک کمی ہو سکتی تھی ، پیسوں اور آنوں تک کی کمی کی گئی اور بعض صیغوں کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ انہیں بالکل اُڑا دیا جائے ۔ پھر سائر اخراجات میں اتنی کمی کی گئی کہ خطرہ ہے اس وجہ سے کام کو نقصان نہ پہنچے۔ مثلاً دفتر ڈاک جس میں روزانہ سو کے قریب خطوط آتے اور اُن کے جواب دیئے جاتے ہیں اور دفاتر کے ساتھ جو خط و کتابت کی جاتی ہے وہ علیحدہ ہے، اس کی سٹیشنری کا سال کا خرچ اسی روپے رکھا گیا ۔ مگر باوجود اس قدر کمیوں کے دو لاکھ اٹھائیس ہزار کا بجٹ بنا اور اس طرح آمد کے مقابلہ میں اڑتالیس ہزار کا فرق پڑتا ہے۔ ابھی مجلس مشاورت سے ایک ہی دن پہلے اٹھارہ ہزار کی اور کمی کرائی گئی ہے۔ جس میں سے پانچ ہزار کی کمی ایسی ہے کہ پراویڈنٹ فنڈ جو اور جگہ دیا جاتا ہے، اُسے بند کر کے کی گئی ہے مگر یہ کمی در حقیقت کمی نہیں ہے کیونکہ اسے ہم ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رکھ سکتے ۔ جب کا رکن بوڑھے ہو جائیں گے تو پھر ان کے گزارہ کی کیا صورت ہوگی ۔ اسی طرح بعض کارکنوں کو علیحدہ کر کے عملہ میں تخفیف کی گئی ہے اور پہلے ہی جن لوگوں پر کام زیادہ تھا اُن پر اور کام ڈال دیا گیا ہے۔ مگر آمد اور اس خرچ میں پھر بھی دو ہزار کا فرق رہ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی تین چار سال کے بعد جا کر پورا ہو سکتا ہے بشرطیکہ اخراجات میں زیادتی نہ ہو مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ چار پانچ سال میں کسی کا رکن کو ترقی نہ دی جائے ۔ یہی نہیں کہ کام کرنے والوں کا تجربہ بڑھتا اور وہ ترقی کے مستحق ہوتے ہیں بلکہ ان کی اولاد بھی بڑھتی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے جس میں پہلے کوئی شخص گزارہ کرتا ہو دو تین بچے پیدا ہو جانے کے بعد بھی اُس میں گزارہ کر سکے۔ در اصل نقص یہ ہے کہ سب جماعت میں احساس نہیں ہے کہ اس بوجھ کو اُٹھائیں۔ مجھے بعض دفعہ ہنسی آتی ہے اور بعض دفعہ تعجب کہ بعض لوگ جو کبھی چندہ نہیں دیتے وہ کہتے -