خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 179

خطابات شوری جلد اوّل 129 مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ہم نے یہ کی کہ بہنوں کو اُن کا حصہ دیا۔پس یہ غلط خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جائداد سے لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا گیا۔اور ایسے لوگوں کو یہ اعتراض پیدا ہوا ہے جو خود حصہ نہیں دینا چاہتے۔ہم نے شریعت کے مطابق ورثہ تقسیم کیا ہے۔مکان کو اگر ابھی عملی طور پر تقسیم نہیں کیا تو ذہنی طور پر تقسیم کیا ہوا ہے۔تو ورثہ کا سوال بھی ایک اہم سوال ہے۔زمیندار طبقہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہے اور شاید تاجر وغیرہ بھی متوجہ نہ ہوں۔زمیندار تو اس میں یہ دقت پیش کرتے ہیں کہ اس طرح زمین تقسیم ہو جاتی ہے اور دوسرے خاندان والے ہماری زمینوں میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس طرح تقسیم کرنے کی وجہ سے کھیتی نہیں ہو سکتی۔“ اس موقع پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ سب لوگوں تک آواز نہیں پہنچتی۔اِس سالانہ بجٹ پر سٹیج کو کسی قدر اونچا کیا گیا اور پھر حضور نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا :- ” وراثت کے بارے میں میں گفتگو کر رہا تھا کہ شرعی قانون پر عمل کرنے میں دقتیں ہیں۔عام احساسات کے لحاظ سے بھی اور گورنمنٹ کے قانون کے لحاظ سے بھی۔اس لئے اس امر پر غور کرنا ہے کہ وہ کیا طریق اختیار کیا جائے کہ وراثت کے متعلق شریعت کا قانون بھی پورا ہو اور دقتیں بھی پیش نہ آئیں۔بیت المال کے متعلق جو امور پیش ہونگے اُن میں سے ایک بجٹ ہے جو کہ مئی ۱۹۲۶ء سے اپریل ۱۹۲۷ء تک کا ہے۔ہمارے کاموں میں ایک بڑی وقت بجٹ ہے۔پچھلے سال کی مجلس مشاورت میں جو بجٹ پیش ہوا اور مجلس نے مشورہ کے بعد جو بجٹ میرے سامنے پیش کیا تھا وہ ۲ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ کا تھا لیکن سلسلہ کی اصل آمد ایک لاکھ 90 ہزار کے قریب ہے۔اس لحاظ سے ساٹھ ہزار سے بھی اوپر بجٹ میں کمی تھی۔میں نے جو سب کمیٹی بجٹ کے متعلق بٹھائی تھی اُس کی رائے میں بجٹ اس سے کم نہیں ہوسکتا تھا۔اس ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے جو طبعی طور پر سلسلہ کے کاموں میں ہوتی ہے نئے سال کا بجٹ گزشتہ سال کی نسبت بڑھانا پڑتا ہے کیونکہ وہ لوگ جنہیں ترقی کا حق حاصل ہوتا ہے اُنہیں ترقی ملنی ہوتی ہے۔اس طرح دو تین ہزار کی زیادتی ہونی چاہیئے۔لیکن پچھلے سال کے تجربہ سے معلوم کر کے کہ جماعت بجٹ پورا نہیں کر سکتی۔بجٹ میں میں نے خود تخفیف کی اور اس بجٹ میں تخفیف کی جس کے متعلق کمیٹی کی رائے تھی کہ اس سے کم