خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 178

خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ان کے لئے زمین کا اور پھر با موقع زمین کا خریدنا بھی آسان نہیں ہے۔اس وجہ سے یہ سوال بھی اہم ہے کیونکہ شہری جماعتوں کے لئے مساجد کا ہونا ضروری ہے اور انہی کے لئے زیادہ مشکلات بھی ہیں۔اس مشاورت میں اس بارے میں بعض تجاویز پر غور کیا جائے۔میں نے اس مسئلہ کو تعلیم و تربیت کے ماتحت بیان کر دیا ہے اسی صیغہ کے ماتحت اس پر غور ہو۔پھر کچھ باتیں جماعت کی تعلیم و تربیت کے متعلق ہیں۔جماعت کی تعلیم و تربیت پر ھے مثلاً یہ کہ کون سے ذرائع اختیار کئے جائیں کہ آئندہ اولاد احمدیوں کی احمدی رہے اور غیروں کے ہاتھ میں پڑ کر ضائع نہ ہو جائے۔ہماری جماعت کے ایک مخلص فوت ہو گئے۔ہم نے بڑی کوشش کی کہ اُن کی اولاد حاصل کر کے اُس کی پرورش کر سکیں مگر گورنمنٹ نے ان کے غیر احمدی وارثوں کو ہی اُن کی اولاد دلا دی اور قرار دیا کہ یہی اس کے وارث ہیں۔اس کے متعلق غور کرنا ہے کہ اگر وصیت کر کے احمدیوں کے حوالہ اولاد ہوسکتی ہے یا کوئی اور طریق ہے کہ احمدیوں کی اولاد اُن کے فوت ہونے پر احمدیوں کے ہی پاس رہے تو وہ کیا ہے۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ قانونا اور رواجاً محروم الارث وارثوں کو شرعی حصہ دلانے کے لئے سہل تجاویز اور اس بات پر غور کہ زمین کا حصہ لڑکیوں کو کس طریق پر دیا جائے۔ہماری جماعت میں اس بات کا احساس تو ہے کہ لڑکیوں کو حصہ ملنا چاہئے مگر کوشش نہیں کی جاتی۔اور زمیندار طبقہ عام طور پر ابھی اس کے لئے تیار نہیں۔علاوہ ازیں حکومت کا قانون بھی اس میں روک ہے۔بعض لوگ کوئی نہ کوئی عذر بنا لیتے ہیں۔کئی لوگوں نے لکھا جنہیں جواب دیا گیا وہ کہتے ہیں اگر لڑکیوں کو ورثہ دینا ضروری ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لڑکیوں کو کیوں نہیں دیا۔حالانکہ ہم نے جائداد کے متعلق سب سے پہلے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ شرع کے مطابق ورثہ تقسیم کیا۔چنانچہ ہماری بہنوں کے نام اُن کے حصہ کی جائداد درج ہے اور وہ اِس پر قابض ہیں۔اور علاوہ اس جائداد کے ایک ایسا علاقہ ہے جیسے تعلقہ ہوتا ہے یعنی دو گاؤں ایسے ہیں جہاں سے ہمارے لئے مالیہ وصول کیا جاتا ہے۔تحصیلدار نے اس کے متعلق کہا کہ ہم اس میں سے لڑکیوں کے نام کچھ نہیں لکھ سکتے۔میں نے کہا اگر یہ بات ہے تو ہم بھی اس علاقہ کی آمدنی نہیں لیں گے۔تو وراثت کے متعلق سب سے پہلی بات