خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 174

خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء حسّاس ہوتی ہیں جیسے ماؤف حصہ جسم۔اُمراء ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے جن کی دوسروں کو پرواہ بھی نہیں ہوتی اس وجہ سے ان کو تبلیغ کرنے کا کوئی اور ذریعہ ہونا ضروری ہے مگر جماعت نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔اس وجہ سے ہماری تبلیغ محدود ہو گئی ہے اور ایسے طبقہ تک محدود ہو گئی ہے کہ اس سے جماعت کی کثرت تو ہوسکتی ہے مگر شوکت اور قوت بڑھانے کے لئے کافی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کا اثر اتنا نہیں جتنا ہونا چاہئے۔اس بات پر آپ لوگوں نے غور کرنا اور مشورہ دینا ہے کہ کس طرح اُمراء کے طبقہ میں تبلیغ کی جائے۔بک ڈپو کی شاخیں دوسرا سوال یہ ہے کہ بک ڈپو کی شاخیں بیرون جات میں کھولی جائیں۔میرے نزدیک اس سوال پر بار ہا غور ہوا ہے مگر پھر شوری میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ جماعت نے ابھی تک اس کے متعلق کوئی عملی کا رروائی نہیں کی۔میں نے دیکھا ہے لوگ اپنے اشد ترین دشمنوں کی کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں مگر ہماری کتابیں نہیں خریدتے۔پچھلے دنوں تجربہ کے لئے ایک صاحب کو مقرر کیا گیا تھا کہ کتابیں فروخت کریں۔وہ ہندوستان کے ایک مشہور لیڈر اور سر سے ملے۔باتیں سننے کے بعد اُنہوں نے کہا آپ کتابیں مفت دے جائیں تو پڑھنے کی کوشش کروں گا مگر خرید نہیں سکتا۔مگر اس کے مقابلہ میں بہت سے ہندوؤں اور عیسائیوں نے ہماری کتابیں خریدیں جو دنیوی لحاظ سے انہی کے پایہ کے تھے۔وہ سر تھے یا جج تھے یا اور کوئی اعلیٰ عہدہ رکھتے تھے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اُمراء ہمارا لٹریچر پڑھنے کے لئے تیار نہیں یا انہیں مذہب سے تعلق نہیں یا ان میں مذہبی جس نہیں۔انہی میں سے ایک نے ایک ہزار روپیہ ایک مذہبی کام میں دیا۔بلکہ وجہ یہ ہے کہ اُن کو جماعت سے اُنس نہیں پیدا کرایا گیا۔ان دلوں میں ہمارے متعلق مخفی بغض ہے۔وہ ہمارے سلسلہ کی کتابوں پر روپیہ صرف کرنا روپیہ کا ضائع کرنا سمجھتے ہیں۔مگر جن کو سلسلہ کی اہمیت کی طرف اور سلسلہ کی خدمات دینیہ کی طرف توجہ دلائی گئی اُنہوں نے کتابیں خریدیں۔اس سے ہمیں دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ اُمراء میں ہمارے متعلق مخفی بغض پایا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ اگر کوشش کی جائے تو اُمراء کا ایک حصہ ایسا ہے کہ سلسلہ کی طرف توجہ کر سکتا ہے۔لاہور شہر میں یہ تجربہ کیا گیا اور تھوڑے سے