خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 173
خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ہوگا کسی شخص کی لستانی یا ظاہری حالت کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ یہی خلیفہ ہو حالانکہ خلافت کے لئے جتنے اوصاف کی ضرورت ہے وہ اس قدر مختلف اور پیچ در پیچ ہیں کہ اگر اس بارے میں ذرا بھی غفلت سے کام لیا جائے تو جماعت کی تباہی آسکتی ہے۔اس کے بعد میں اُس کا رروائی کے متعلق جو اس مجلس میں ہونے والی ہے جماعت کے دوستوں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اُمراء کے طبقہ میں تبلیغ اس سال بعض ایسے امور مشورہ کے لئے رکھے گئے ہیں جن کی سخت ضرورت محسوس کی گئی ہے۔سب سے پہلا ایجنڈا نظارت دعوۃ و تبلیغ کا ہے جس میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اُمراء کے طبقہ میں تبلیغ کس طرح کی جائے۔درحقیقت اُمراء اور غرباء ہر ایک قوم کے دو بازو ہوتے ہیں نہ کوئی قوم بغیر کثرت افراد کے زندہ رہ سکتی ہے اور نہ بغیر اُمراء کے زندہ رہ سکتی ہے۔جب تک جماعت کی تعداد کثیر نہ ہو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔اور جب تک اس میں ایسے لوگ نہ ہوں جو اثر اور رسوخ رکھنے والے ہوں جنہیں دنیوی وجاہت حاصل ہو، اُس وقت تک بھی ترقی نہیں ہو سکتی۔اس وقت تک جماعت نے طبقہ امراء کی طرف کم توجہ کی ہے اور اگر کوئی ایسے لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں تو یہی سمجھنا چاہئے کہ اتفاقیہ طور پر اُنہوں نے کتابیں پڑھیں اور سلسلہ میں داخل ہو گئے ورنہ اُمراء میں سے کوئی ایسی نظیر نہیں نظر آتی کہ جماعت کی تبلیغ کے نتیجہ میں داخل ہوئے ہوں اور نہ کوئی اُمراء کا طبقہ ایسا نظر آتا ہے کہ جو ہمارے قریب آ رہا ہو بلکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ اُمراء کا طبقہ دور جا رہا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس وقت تک ان میں تبلیغ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں اختیار کیا گیا۔جو ذریعہ تبلیغ عوام کے لئے مفید ہو سکتا ہے وہ اُمراء کے لئے مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ اُمراء کی عادات اور قسم کی ہوتی ہیں۔اُمراء کی مثال بالکل پھوڑے کی سی ہوتی ہے۔آپ لوگ تندرست حصہ جسم کو جس طرح ہاتھ لگائیں کوئی تکلیف نہ ہوگی لیکن پھوڑے کے لئے ڈاکٹر کے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جس حصہ جسم میں پھوڑا ہو اُس کی حسیں بہت بڑھی ہوتی ہیں۔وہ انگلی جو تندرست حصہ جسم کو لگ جائے تو خیال بھی نہیں آئے گا کہ کیا ہوا، اس سے بھی ہلکی انگلی اگر پھوڑے پر لگے تو انسان شور مچا دیگا۔حالانکہ اُنگلی لگانے والے کو خیال بھی نہ ہوگا کہ ایسا ہوگا۔تو اُمراء کی طبائع ایسی