خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 172

خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء حضرت موسی علیہ السلام سے کہا اپنی قوم سے کہو وہ اپنے نمائندے بھیجے جنہیں میں اپنا کلام سُناؤں۔جب حضرت موسی علیہ السلام نے اُنہیں یہ کہا تو انہوں نے کہہ دیا موسی تو جاہم نہیں جاتے۔اس پر خدا تعالیٰ نے کہا اب میں انہیں کلام نہیں سُناؤں گا اور ان کے بھائیوں میں سے نبی بر پا کروں گا۔ایسے لوگ جو سلسلہ کے مقام کا ادب و احترام نہیں سمجھتے ، یہ نہیں جانتے کہ یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ کسی کو اس مجلس میں نمائندہ بنایا جاتا ہے جو تمام دنیا کے حالات ڈھالنے والی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا انہیں عزت دینا ہے اور اتنی بڑی عزت دینا ہے کہ اگر ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی ہو تو وہ اس مجلس کی ممبری جسے آئندہ دنیا کو ڈھالنا ہے بہت بڑی عزت سمجھے گا۔پس احمدی جماعتوں کو نمائندوں کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور بہترین آدمی کو منتخب کر کے بھیجنا چاہئے۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ جماعت میں مجلس مشاورت کے متعلق احساس پیدا ہو رہا ہے اور بعض جماعتیں اس کی نمائندگی کے حق پر زور دیتی اور بہترین آدمی چن کر لاتی ہیں مگر اکثر حصہ میں ابھی سستی اور لا پرواہی پائی جاتی ہے۔اس سال پہلے کی نسبت حاضری زیادہ ہے مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ جماعت کا احساس اس بارے میں بڑھ گیا ہے بلکہ جب میں نے دیکھا کہ بہترین آدمی منتخب ہو کر نہیں آتے تو میں نے ایسے آدمی جو سلسلہ میں پرانے ہیں یا بہترین کام کرنے والے ہیں یا ایسے نوجوان ہیں جنہیں کام کرنے کے لئے شوق دلانا مدنظر ہے، انہیں چٹھی بھیج کر بلایا ہے۔یہ لوگ جماعت کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ میرے ہی نمائندے ہیں کیونکہ جماعت نے ان کو منتخب کر کے نہیں بھیجا اور نہ خود ان کے دل میں شوق اور ولولہ پیدا ہوا ہے کہ بہترین آدمی منتخب کر کے بھیجے جائیں۔غرض ہمارے مشورے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر اس اہمیت سے واقف کریں۔دیکھو ان نمائندوں پر یہی ذمہ داری کتنی بڑی ہے کہ آئندہ جب خلافت کے انتخاب کا سوال در پیش ہوگا تو مجلس شوری کے ممبروں سے ہی اس کے متعلق رائے لی جائے گی۔یہ کتنا اہم اور نازک سوال ہے۔پھر کیوں بااثر لوگوں کو نمائندہ منتخب نہیں کیا جاتا۔اگر خدا تعالیٰ کی حفاظت نہ ہو تو کتنے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ایک شخص جو خود واقف نہ