خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 171
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء پہلے لوگوں نے فلاں فعل غلط کیا اور اگر کوئی کہے گا تو ساری رعایا اُس کے خلاف کھڑی ہو جائے گی کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حواریوں یا اُن کے دیکھنے والوں کی ہتک کرتے ہوا جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ہوسکتا ہے کہ ان کی رائے صحیح ہو اور تمہاری غلط مگر با وجود اس کے کسی میں جرات نہ ہو گی کہ تمہاری رائے کو رڈ کر سکے۔جب تمہارے فیصلوں کا ایسا اثر پڑنے والا ہے کہ گویا آزادی کا بڑے سے بڑا دعویٰ کرنے والے، دُنیا کی فتح کا ارادہ رکھنے والے بلکہ دنیا کو فتح کر کے دکھا دینے والے ایک طرف تو دنیا کو فتح کر رہے ہوں گے مگر دوسری طرف اُن میں اتنی ہمت نہ ہوگی کہ تم لوگ جو مر کر سینکڑوں من مٹی کے نیچے دفن ہو گے تمہاری رائے کو رڈ کر سکیں۔جب یہ حالت ہونی ہے تو سوچ لو کہ تمہیں کس قدر خشوع و خضوع کے ساتھ دُعا کر کے رائے دینی چاہئے اور کس قدر غور وفکر کے بعد کسی مسئلہ کے متعلق اپنا خیال ظاہر کرنا چاہئے۔نمائندے کیسے ہوں پس یہ ضروری ہے کہ اس مقام کی اہمیت کو سمجھنے والے نمائندے ہونے چاہئیں اور احمدی جماعتوں کو ایسے لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو واقعہ میں نمائندے کہلا سکیں۔جولوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں گو وہ خود نمائندے منتخب ہو کر آئے ہیں مگر جماعتوں میں جا کر تحریک کریں کہ نمائندہ منتخب کرنے میں جماعتیں بہت احتیاط سے کام لیا کریں۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض جماعتوں میں سے ایک ایسے شخص کو نمائندہ منتخب کر کے بھیج دیا جاتا ہے جس کی آواز جماعت میں کوئی اثر نہیں رکھتی۔اس کے متعلق محض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس وقت فارغ کون ہے۔پھر خواہ روزانہ مشوروں میں کبھی اُس سے مشورہ نہ لیا جاتا ہو اور اس کی رائے کو کچھ وقعت نہ دی جاتی ہو محض اس لئے کہ ہمیں اور کام ہیں اُسے مجلس مشاورت کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک جماعت کا امیر تو نہیں آتا اور کسی دوسرے کو بھیج دیتا ہے۔ایسے لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح نہ صرف جماعت کے مشورہ کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو نظام مقرر کیا ہے اُس کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس طرح وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ایک قوم نے اس طرح ناقدری کی تھی جس کی اُسے ایسی سزا ملی کہ پھر وہ اسے مٹا نہ سکی۔وہ بنی اسرائیل کی قوم تھی۔خدا تعالیٰ نے