خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 169

خطابات شوری جلد اوّل ۱۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء میں سے بعض نہایت چھوٹے قصبات سے آتے ہیں، بعض ایسے مقامات سے آتے ہیں جہاں چار پانچ ہی احمدی ہوتے ہیں۔پھر یہ نمائندے زیادہ ہندوستان ہی کے مختلف علاقوں کے ہیں اس لئے معلوم نہیں ہو سکتا اور خیال بھی نہیں آ سکتا کہ ہمارے مشوروں کا اثر ہماری آئندہ ترقی پر ہو سکتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے ہمارے سامنے جو مستقبل ہے وہ اتنا محدود نہیں ہے جتنا آج نظر آ رہا ہے بلکہ وہ بہت شاندار ہے اور اُس سے بھی زیادہ شاندار ہے جو آج تک کسی فاتح قوم نے دیکھا ہے کیونکہ کبھی کسی قوم کے متعلق یہ وعدہ نہیں دیا گیا کہ ترقی کرتے کرتے اُس مقام پر پہنچ جائے گی کہ دوسرے لوگ اس کے مقابلہ میں مٹ جائیں گے اور ایسے کمزور ہو جائیں گے کہ ان کی مثال چوہڑے چماروں کی سی ہو جائے گی مگر ہمارے مستقبل کے متعلق یہی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسلام اور احمدیت ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ جائے گی کہ دوسرے مذاہب والے اتنے قلیل رہ جائیں گے کہ ہم کہہ سکیں گے کہ اسلام ہی اسلام دُنیا میں نظر آتا ہے۔یہ مستقبل کسی اور قوم کا نہیں تھا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے مشوروں کا اثر جو دُنیا پر پڑے گا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں ہمارے مشوروں کا تعلق اسی مستقبل سے نہیں جب کہ ہماری جماعت کے نمائندے دُنیا کے گوشہ گوشہ سے آئیں گے۔جب کہ نمائندے چار یا پانچ یا چھ آدمیوں کی طرف سے نہیں آئیں گے بلکہ چار، پانچ ، چھ کروڑ آدمیوں کے نمائندے بن کر آیا کریں گے۔جب کہ اس مجلس کا اثر چار، پانچ لاکھ انسانوں پر نہیں پڑے گا بلکہ اس کے مشوروں کے نتیجہ میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کی حالت بدل جائے گی۔صرف اُس وقت ہی اس مجلس کے مشوروں کو اہمیت نہیں حاصل ہوگی بلکہ آج بھی ویسی ہی اہمیت حاصل ہے بلکہ آج اُس وقت سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ مستقبل آج سے ہی پیدا ہو گا۔آج ہم جو فیصلے کریں گے آنے والے لوگ ان کے بدلنے کی آسانی سے کوشش نہیں کر سکیں گے۔بعد میں آنے والے لوگ پہلوں کا ادب و احترام کرتے ہیں۔اور یہ بھی سنت ہے کہ نبی کے قریب کے زمانہ کے فیصلوں کو اسلام اور دین بھی خاص وقعت دیتا ہے اور اس کا نام اجماع اور سنت رکھا جاتا ہے۔