خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 168

خطابات شوری جلد اوّل ۱۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء بٹھانا چاہے تو وہ اپنی جلتی حالت کے ماتحت کیا سمجھے گا ؟ اُس پر سخت ناراض ہوگا اور اُس کی خاطر مدارات کو اپنے لئے وبالِ جان سمجھے گا حالانکہ اس نے اخلاص اور محبت سے بُلایا ہوگا تو انسان کے دل کی جیسی حالت ہوتی ہے، اسی رنگ میں وہ بات قبول کرتا ہے۔دیکھو خدا کے رسول کیسے اخلاص اور محبت سے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں مگر وہ لوگ جن کے قلوب دنیا داری میں مشغول ہوتے ہیں وہ کان میں آواز پڑتے ہی کہہ اٹھتے ہیں دُنیا کمانے کا ڈھنگ نکالا گیا ہے اور کچھ نہیں ہے حالانکہ اس آواز کی ایک ایک لہر میں اخلاص ہوتا ہے مگر سننے والے چونکہ ایسے حالات سے متاثر ہوتے ہیں کہ جو چاروں طرف دُنیا کی صحبت سے لبریز ہوتے ہیں اس لئے اس آواز کا ترجمہ بھی اس رنگ میں کرتے ہیں۔تو جس قسم کے انسان کے حالات ہوتے ہیں گر دو پیش کے واقعات کو اُسی رنگ میں سمجھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ ملکہ دیا ہے کہ میرے ارد گر داگر بد باتیں ہوں تو بھی میں ان سے نیک نتیجہ نکال لیتا ہوں۔پس رسول خواہ وحی کی بات ہی بیان کرے اور کوئی اُسے رڈ نہ کر سکے لیکن اگر انسان اس خیال میں بیٹھا ہو کہ اگر ہم سے پوچھتے تو ہم بھی کوئی بات بیان کرتے تو اُس وقت اس طرح اُس پر غور نہ کرے گا جس طرح اسے کرنا چاہئے تھا بلکہ اس میں نئی نئی باتیں سوچے گا۔حالانکہ اگر پہلے اُس سے پوچھا جاتا تو وہ بھی وہی بتا تا لیکن چونکہ اُس سے پوچھا نہ گیا اس لئے اس کے خلاف غلط خیال سوچے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کو اسی وجہ سے رحمت کہا ہے کہ جب ایک بات کوئی شخص خود پیش کرے گا یا اُسے منظور کرے گا تو پھر شوق سے اُس پر اب عمل بھی کرے گا اور گندے اور غلط خیالات جو اس کے دماغ میں اس کے متعلق آ سکتے تھے ان سے محفوظ رہے گا۔مجلس مشاورت کی اہمیت ان باتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ہماری یہ مجلس مشاورت نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ابھی اس کی پوری عظمت محسوس نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ ابھی بیج کی طرح ہے اور بڑے سے بڑا درخت بھی پہلے ایک پیج ہی ہوتا ہے۔ابھی جو نمائندے اس مجلس کے لئے آتے ہیں ان