خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 167

خطابات شوری جلد اوّل ۱۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء پر اُن حقوق کا مالک نہیں ہوتا جو بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ مشورہ کا حکم نہ دیتا۔مشورہ کی تاکید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ جس امر میں مشورہ نہیں ہوتا اُس میں خدا تعالیٰ کی برکات نہیں ہوتیں۔آپ نے فرمایا دیکھو خدا اور اس کا رسول تمہارے مشورہ کا محتاج نہیں ہے۔خدا نے مشورہ کو تمہارے لئے رحمت کے طور پر نازل کیا ہے۔خدا تعالیٰ تو مشورہ کا محتاج نہیں، یہ ظاہر ہی ہے۔مشورہ کے معنی اچھی اور عمدہ بات بیان کرنے کے ہیں اور خدا تعالیٰ کو کون کوئی بات بتا سکتا ہے۔رسول اپنی ذات کے لحاظ سے تو محتاج ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے چونکہ اُس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے اس لئے وہ بھی محتاج نہیں مگر فر ما یا مشورہ رحمت ہے۔اس لئے کہ رسول لوگوں کے لئے نمونہ اور اُسوہ ہوتا ہے۔اگر رسول مشورہ نہ کرتا تو جب استبدادی زمانہ آتا، لوگ کہتے رسول نے کبھی مشورہ نہیں لیا تھا، ہم اس سنت پر عمل کریں گے۔معا کہتے دیکھو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے نماز کی سنتیں پڑھیں تو وہ سُنت قرار پا گئی، جسم کا ایک حصہ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کا نام سُنت رکھا گیا، ڈاڑھی کے رکھنے کا حکم دیا تو سنت بن گئی ، پھر کیا وجہ ہے کہ جب آپ نے مشورہ لیا تو اسے سنت نہ قرار دیا جائے۔ہم اسی سنت پر عمل کریں گے۔اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ لیتے رہے تا کہ مشورہ میں خدا تعالیٰ نے جو فوائد رکھے ہیں ان سے لوگ محروم نہ رہ جائیں۔دوسری وجہ یہ ہے۔پنجابی میں مثل ہے۔سو سیانے اگو مت“۔یعنی سو دانا بھی اگر مشورہ کریں گے تو جو بات ایک عقلمند کے دماغ میں آئے گی ، اگر وہ صحیح ہو گی تو سب کے دماغ میں وہی آئے گی۔ممکن ہے رسول خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت اور اُس کی ہدایت کے ماتحت ایک بات کہے لیکن سننے والے اسے ماننے کے لئے تیار نہ ہوں۔دیکھو بعض باتیں جن کا انحصار خدا تعالیٰ نے اپنے یا رسول کے حکم پر رکھا ہے اُن کو انسان اس رنگ میں قبول کرتے ہیں جیسے ان کے دلی حالات ہوتے ہیں اور یہ فطری بات ہے۔ایک انسان جسے سخت صدمہ پہنچا ہو وہ سمجھتا ہے میرے لئے بہترین بات یہی ہے کہ میں کہیں تنہائی میں جا بیٹھوں۔اُس وقت اگر اسے کوئی دوست بُلائے ، اُس کا ادب و احترام کر کے اپنے پاس