خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 166
خطابات شوری جلد اوّل ۱۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ایمان کا جُزو، اسلام کی علامتوں میں شامل کرنا اور مذہبی فرائض اور ذمہ داریوں میں داخل کرنا یہ صرف قرآن کریم کے لئے مخصوص ہے۔اس سے پہلی کسی کتاب میں خواہ وہ شام کے انبیاء پر نازل ہوئی ہو یا ہندوستان کے انبیاء پر ، خواہ وہ ایران کے انبیاء پر اُتری ہو، خواہ عرب کے انبیاء پر یا کسی اور مملک کے بزرگوں پر جن کی نبوت پر قرآن کریم نے نام لیکر مہر نہیں کی بلکہ اجمالاً اُن کا ذکر کیا ہے اُن کی طرف جو کتابیں منسوب ہوتی ہیں ان میں بھی نہیں ہے اور سب سے پہلی کتاب قرآن ہی ہے جس نے توجہ دلائی ہے کہ ایمان اور اسلام کی شاخوں میں سے ایک شاخ مشورہ بھی ہے۔جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہوئے کہ اس طرح اسلام نے دو مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کا ارادہ بسا اوقات جمہور کے قلوب پر نازل ہوتا ہے۔جماعت کے قلوب اور اُن کے دماغ اُس کا آئینہ ہوتے ہیں۔اور بسا اوقات خدا تعالیٰ خاص لفظی الہام اور وحی کی بجائے اپنے ارادوں کو دوسروں کے ارادہ میں مخفی کر کے ظاہر کرتا ہے کیونکہ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر مشورہ کرنا مومنوں کے ایمان کا جزو نہیں ہو سکتا۔اسلام کی شاخ تبھی ہوسکتا ہے جبکہ یہ دین کا حصہ ہو اور وہ اس طرح ہے کہ لوگوں کی رائے خدا تعالیٰ کی رائے کے مطابق ہو۔پس ہمیں ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت قرآن کریم کی رو سے خدا کا منشاء اور ارادہ کبھی جماعت کے قلوب پر نازل ہوتا ہے جس طرح کبھی انبیاء کے کانوں ، انبیاء کی زبانوں اور انبیاء کے دلوں پر نازل ہوتا ہے اور ان الفاظ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔مگر دوسرے لوگوں کے دلوں پر جو نازل ہوتا ہے اُس کا ماننا ضروری ہوتا ہے مگر اس کا انکار کفر تک نہیں پہنچا دیتا۔سب انسان یکساں ہیں دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تمام بنی نوع انسان یکساں ہیں اور جس قدر حقوق ہیں ان میں سب مشترک ہیں۔ہاں اگر کسی انتظام کے لئے کسی کو زیادہ اختیار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب نظام کی درستی ہے نہ کہ ورثہ کے طور پر اُسے اختیارات دیئے گئے ہیں یا کسی اور وجہ سے اُس نے حاصل کئے ہیں۔وہ بحیثیت نمائندہ کے ہوتا ہے اور ایک جماعت کی آواز کی بجائے اُس کی آواز سمجھی جاتی ہے۔ورنہ ورثہ یا ذاتی حق کے طور