خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 160

خطابات شوری جلد اوّل 17۔مشاورت ۱۹۲۵ء اُس کا نام خلیل الرحمن ہے۔طالب علمی کے بعد اُسے نائب تحصیلدار مقرر ہوئے چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس کے ذریعہ ایک گاؤں احمدی ہو گیا۔معزز ملازمین توجہ کریں پس اگر کام کرنے والے ادھر توجہ کریں تو بہت کچھ کام ہو سکتا ہے۔اگر ایک کالج سے نکل کر چھ ماہ میں عارضی ملازم اس طرح تبلیغ میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مجسٹریٹ اور دوسرے معزز ملازمین کامیابی نہ حاصل کر سکیں۔اگر مجسٹریٹ نئے وکیلوں سے تعلقات پیدا کریں تو وہ شوق سے اُن کی باتیں سنیں گے اور جلدی احمدیت قبول کر لیں گے۔پس اگر ہمارے تعلیم یافتہ اور معزز دوست تبلیغ پر زور دیں تو تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے قبضہ میں آسانی کے ساتھ آ سکتا ہے۔میں نے تعلیم یافتہ اور خاص کر اُن کو جو کسی محکمہ میں افسر ہوں کہوں گا اور لوگ تو ناجائز کاموں کے لئے اپنے رسوخ کو استعمال کرتے ہیں وہ جائز کام کے لئے اپنے رسوخ کو کام میں لائیں تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔میں اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ لاہور کی جماعت کا شاکی ہوں اور پھر خصوصاً چیئر مین صاحب کا۔آج تک مجھے معلوم نہیں کہ کوئی پڑھا لکھا ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوا ہو۔میں تمام دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر یہ سستی کا زمانہ ہے تو پھر ترقی کا زمانہ کوئی نہیں۔تبلیغی وفد اس کے لئے ایک اور تجویز پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ دوست وفد بنا کر معزز اصحاب کے پاس جائیں اور اُنہیں الفضل اور ریویو کی خریداری کی تحریک کریں۔اس طرح اُنہیں جماعت کے حالات اور کاروبار سے واقفیت حاصل ہوتی رہے گی اور تبلیغ بھی ہوگی۔افسوس ہے عام طور پر دوست سمجھتے ہیں کہ احمدی ہو جانے کی وجہ سے دُنیا میں ہمارا کوئی حق نہیں حالانکہ سب سے زیادہ ہمارا ہی حق ہے۔اگر دوست معتز زین سے مل کر سلسلہ کے اخبارات کی خریداری کی طرف توجہ دلائیں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔حیدر آباد کی عورتوں نے غیر احمدی عورتوں میں تحریک کر کے ان سے چندہ وصول کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور سکندر آباد کے احمدیوں نے ریویو انگریزی کے لئے ۱۰۰ خریدار مہیا کر لئے تھے۔اگر وہ کوشش کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو ہر جگہ کوشش کرنے سے کامیابی ہوسکتی