خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 155

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۵۵ مشاورت ۱۹۲۵ء رکھا گیا یا زیادہ پر ؟ مجھے جہاں تک علم ہے ڈاکٹر عبداللہ صاحب کی بیوی نہ مڈوائفری کا کام جانتی ہیں اور نہ وہ کبھی ہسپتال میں نوکر ہوئیں۔میں پوچھتا ہوں کسی کی بیوی کے متعلق اس قسم کے سوالات کرنا کیا اُس کی ہتک نہیں ؟ ڈاکٹر عبداللہ صاحب کی بیوی نے کبھی ایک گھنٹہ بھی ہسپتال میں کام نہیں کیا مگر بلا وجہ بیویوں تک سوال کئے جا رہے ہیں۔مجھے نہیں معلوم انہیں کام آتا بھی ہے یا نہیں۔ممکن ہے ڈاکٹر صاحب نے سکھا دیا ہومگر یہ مجھے معلوم ہے کہ کبھی ایک گھنٹہ کے لئے بھی اُنہوں نے ہسپتال میں کام نہیں کیا۔اس کے لئے مجلس شوریٰ میں یہ سوال کرنا کہ بتایا جائے کہ وہ کس قدر لیاقت رکھتی ہیں، اُن کو کیا تنخواہ دی گئی ہے بہت نا مناسب ہے۔سوالات کے متعلق افسوس میں نہایت افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس قسم کے سوالات کرنے کا یہ موقع نہیں تھا۔اور اس سے بھی زیادہ افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ جن کے متعلق سوالات کئے گئے ہیں انہیں خواہ مخواہ تکلیف پہنچ گئی ہے، ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بہت ظلم کیا گیا ہے اس لئے میں منشی فرزند علی صاحب، شیخ محمد حسین صاحب اور ملک عزیز احمد صاحب کی سب کمیٹی مقرر کرتا ہوں۔شیخ صاحب یہاں نہیں آئے اگر وہ آسکیں تو اُن کا انتظار کر لیا جائے ورنہ کام شروع کر دیا جائے۔ناظر صاحبان وہ تمام کا غذات انہیں مہیا کریں جن کی تحقیقات کے لئے ان کو ضرورت ہو۔وہ تحقیقات کر کے اس کے نتیجہ سے مجھے اطلاع دیں اور ساتھ ہی اُن ناموں کی فہرست بھی دیں جنہوں نے اس قسم کی باتیں بنائی ہیں تاکہ ان کے متعلق بھی تحقیقات کی جا سکے۔“ حضور کی اس تقریر کے بعد ڈاکٹر شاہ نواز صاحب نے اعلان کیا کہ میں نے کبھی اپنی خدمات کو ڈاکٹر رشید الدین صاحب کے مقابلہ میں نور ہسپتال کے لئے پیش نہیں کیا۔میر محمد اسحق صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح کے حضور عرض کیا۔میں نے منشی فرزند علی صاحب کے سوالات پڑھے ہیں ان میں اعداد و شمار کا ذکر ہے اور کوئی ایسی بات نہیں جس میں کسی پر اعتراض کیا گیا ہو اس لئے میری یہ گزارش ہے کہ ان کا نام حضور اس سب کمیٹی میں نہ رکھیں۔