خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 149
خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۹ مشاورت ۱۹۲۵ء قسم کی مدد نہ کرنی چاہئیے ؟ اگر یہ نہیں تو دفتر میں بل موجود ہیں، خزانہ کے حساب کی کتب موجود ہیں۔اُن میں دیکھ سکتے ہیں کہ کیا کوئی رقم اس سفر پر خرچ ہوئی ہے؟ اگر نہیں تو میں نہیں سمجھتا یہ کونسا شریفانہ طریق ہے کہ اس طرح لوگوں کے پرائیویٹ معاملات کی جستجو کی جائے۔یہ سچ ہے کہ کل جو جواب دیا گیا تھا ، وہ ٹلا واں جواب تھا مگر وہ درست بھی تھا کیونکہ ناظر تعلیم و تربیت اس حیثیت سے نہیں گیا تھا بلکہ اپنی ذاتی حیثیت سے اپنے بھائی کی ملازمت کے لئے گیا تھا اور ذوالفقار علی خان صاحب کو بھی ساتھ لے گیا تھا مگر اپنے خرچ پر۔اور اس پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ناظر امور عامہ اور سٹور کا قرض ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ ناظر امور عامہ کے ذمہ سٹور کا قرض ہے۔اگر صرف اسی کے ذمہ قرض ہوتا، کسی اور کی طرف نہ ہوتا تو بھی میرے نزدیک یہ کوئی اعتراض کے قابل بات نہ تھی۔سٹور ایک دکان تھی اور دُکان سے لوگ قرض لیتے ہیں اور ناظر ہونے کی وجہ سے تمام انسانی حقوق زائل نہیں ہو جاتے۔اگر اس کے پاس روپیہ نہ ہو، خرچ کی تنگی ہو تو کیا وہ اپنے بال بچوں کو اس لئے بھوکا مار دے کہ وہ ناظر ہے اور قرض لے کر ان کے کھانے پینے کا انتظام نہ کرے؟ پھر اور لوگوں نے بھی قرضہ لیا تو کیا اس لئے لیا کہ وہ بھی ناظر تھے؟ سٹور کے بیسیوں حصہ دار ہیں اور اُن کو معلوم ہے کہ سٹور کے بہت سے قرض دار ہیں جو سب کے سب انجمن یا نظارت کے ملازم نہیں اور نہ وہ کسی صیغہ کے ناظر ہیں۔اگر ان میں ناظر امور عامہ کے ذمہ بھی کچھ رقم ہے اور وہ بھی بعد میں نکلی ہے تو کیا یہ کوئی بددیانتی کہلا سکتی ہے؟ اور کسی کو کیا حق ہے کہ اس کے متعلق سوالات پوچھے۔یہ تینوں اشخاص جن کے میں نے نام لئے ہیں، سرکاری ملازم ہیں۔میں پوچھتا ہوں کیا کوئی ان کے متعلق ان کے بالا افسروں کے پاس یہ رپورٹ کر سکتا ہے کہ یہ لوگ فلاں دُکان سے کیوں سو دا خریدتے ہیں یا فلاں دُکان سے کیوں ادھار لیتے ہیں؟ ناظر امور عامہ اور بورڈنگ کا بقایا ایک اور سوال یہ کیا گیا ہے کہ ناظر امور عامہ کے ذمہ بورڈنگ ہائی سکول کا بقایا ہے۔اس کے متعلق اول تو میں کہتا ہوں کہ کوئی بقایا ہے نہیں۔نہ ناظر امور عامہ کے ذمہ اور نہ