خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 145

خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۵ مشاورت ۱۹۲۵ء الزام لگانے والے خود مجرم ہوتے ہیں میں نے جہاں تک تحقیقات کی ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الزام لگانے۔والے خود کسی نہ کسی بات میں مجرم ہوتے ہیں اور وہ شرارت سے دوسروں پر الزام لگاتے ہیں۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ ایک افسر جو اپنے عہدہ کی ذمہ داری کی وجہ سے کسی شخص کو پکڑتا اور مجرم قرار دے کر سزا دلاتا ہے اس پر سزا پانے والا خوش ہو سکتا۔نا ہے؟ وہ در پردہ اُس افسر کے خلاف باتیں مشہور کرتا ہے۔اب اگر اس مجرم کی باتوں کو صحیح تسلیم کر کے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے گا اور افسر کے خلاف خیالات دل میں بٹھائے جائیں گے تو کون شخص ہو گا جو اس صیغہ کا کام کرنے کے لئے تیار ہوگا؟ اس صورت میں کوئی تیار نہ ہوگا۔پھر بہت سے کام ایسے ہیں جو کسی آدمی کے بطور خود کرنے کے نہیں بلکہ وہ کام ایک کمیٹی میں پاس ہوتے ہیں جس کے میاں بشیر احمد صاحب، قاضی امیرحسین صاحب،مفتی محمد صادق صاحب، مولوی شیر علی صاحب، خلیفه رشید الدین صاحب، ذوالفقار علی خان صاحب، چودھری فتح محمد صاحب، چودھری نصر اللہ خان صاحب، میر محمد اسحاق صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب، میر محمد اسمعیل صاحب، سیدعبدالستار شاہ صاحب، ڈاکٹر کرم الہی صاحب ممبر ہیں۔کیا یہ سب آدمی مل کر کوئی بد دیانتی کریں گے؟ میری عقل تو اس بات کو نہیں مان سکتی۔چودھری نصر اللہ خان صاحب سلسلہ کی خدمت کے لئے کام چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں۔کوئی تنخواہ نہیں لیتے بلکہ سال میں چار پانچ سو روپیہ چندہ دیتے ہیں۔کیا وہ یہاں خائنوں کے ساتھ مل کر اپنا ایمان تباہ کرنے کے لئے رہتے ہیں؟ ان حالات کو مدنظر رکھ کر سوالات کو دیکھو۔گویا بیل کر فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں نرس جو آئی ہے اُسے زیور بنا دیا جائے۔اگر کوئی یہ خیال کر سکتا ہے کہ یہ عیاش اور اوباش ہیں تب تو اس قسم کا فیصلہ کر سکتے ہیں ور نہ ان کے متعلق کس طرح یہ سوال ہو سکتا ہے۔پس اگر اس رنگ میں اعتراض ہوں گے تو کوئی کام نہیں کر سکتا۔اعتراض کر نیوالوں کی سب کمیٹی میں نے باوجود ان سوالات کے مجلس مشاورت کے خلاف ہونے کے جوابات دینے کا موقع دیا تا کوئی یہ نہ کہے کہ کوئی بات تھی اسی لئے جواب نہیں دیا گیا اور میں اسی پر بس نہ کروں گا بلکہ