خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 144

خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۴ جانتے ہیں کسی کالج میں پروفیسر ہو سکتے ہیں، انہیں نوے ملتے ہیں۔مشاورت ۱۹۲۵ء اب بتاؤ یہ لوگ جو باہر کی بڑی بڑی تنخواہیں چھوڑ کر یہاں تھوڑی تھوڑی تنخواہیں لے رہے ہیں تو کیا اس لئے کہ بد دیانتی کر کے کبھی سو دوسو روپے حاصل کر لیں۔سائلوں سے سوال پس پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ ایسی باتیں بتانے والے کون لوگ ہیں اور دوسرے یہ کہ کن کے متعلق بتاتے ہیں۔میں بتانے والوں کو تو منافق کہتا ہوں مگر جو سائل ہیں ان سے کہوں گا پہلے ایسی قربانی کر کے دکھاؤ جیسی مرکز میں کام کرنے والے دکھا رہے ہیں اور پھر اعتراض کرو اور ان سے بہتر کام کر کے دکھاؤ۔ہمیں کام کرنے والے آدمی چاہئیں اور جو بھی اچھا کام کرے اُسے ہم لینے کے لئے تیار ہیں۔جن کے متعلق سوال کئے گئے ہیں اُن میں سے ایک بھی میرا ایسا رشتہ دار نہیں جو میرے زمانہ خلافت میں نوکر ہوا ہو۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب میرے رشتہ دار ہیں یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہاں آئے اور جب آئے تو میں ان کے آنے کا سخت مخالف تھا۔اُس وقت میں یہی کہتا تھا کہ چار سو کی بجائے ستر روپے ماہوار میں کس طرح گزارہ کر سکیں گے۔میرے دوسرے رشتہ دار سید ولی اللہ شاہ صاحب ہیں مگر جب وہ کام پر لگے اُس وقت میرے رشتہ دار نہ تھے۔سو مجھے اِن لوگوں سے کیا ہمدردی اور ان کی کیا خاطر داری منظور ہو سکتی ہے۔سوائے اس کے کہ میں انہیں زیادہ قربانی کرنے والا اور زیادہ مخلص دیکھتا ہوں۔آپ لوگ ان سے زیادہ قربانی کر کے دکھائیں، میں تمہاری بھی اُسی طرح قدر کروں گا جس طرح ان کی کرتا ہوں لیکن میں باوجود ان کی قربانی اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے کے ان سے جتنا بھی سختی کا معاملہ کرتا ہوں، اُسے خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ان حالات میں اِن لوگوں کا حق ہے کہ آپ لوگ ان کا ادب اور احترام کریں۔تمہارے مد نظر یہ بات ہونی چاہئے کہ ان لوگوں نے سلسلہ کے لئے قربانیاں کی ہیں اور وہ کام کر رہے ہیں جس کا کرنا تمہارے لئے بھی اُسی طرح فرض ہے جس طرح ان کے لئے ہے۔پس ان پر بلا وجہ اور بے محل اعتراض کرنا غلطی ہے۔اعتراض کرنے کا حق آپ لوگوں کو ہے مگر اعتراض اس رنگ میں کرو کہ سلسلہ کے کام میں ترقی کا باعث ہوں نہ کہ نقصان کا۔