خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 143
خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۳ مشاورت ۱۹۲۵ء لوگوں سے اس قسم کی باتیں سنو اُن کے متعلق دیکھو کیا وہ متقی ہیں؟ شریعت کے ظاہری احکام کے پابند ہیں؟ اگر نہیں تو ان کی باتوں پر کس طرح اعتبار کر سکتے ہو۔جن پر اعتراض کیا جائے ان کی حالت دیکھو پھر یہ دیکھو جن کے متعلق اعتراض کئے جاتے ہیں وہ کیسے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض خراب بھی ہو جائیں مگر جہاں تک میرا خیال ہے وہ اچھے ہیں۔جس طرح باہر کے لوگ چندے دیتے ہیں اسی طرح وہ بھی دیتے ہیں مگر ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو باہر کی اعلیٰ نوکریاں چھوڑ کر یہاں کام کر رہے ہیں۔باہر وہ بہت زیادہ تنخواہ لے سکتے تھے اور لیتے رہے ہیں۔مثلاً ذولفقار علی خان صاحب کی تنخواہ پانسو تھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی تنخواہ تین سو روپے تھی اور پریکٹس کی آمدنی اس سے علیحدہ تھی۔چودھری فتح محمد صاحب کو دوسو پچاس روپے کی ملازمت اُس وقت ملتی تھی جب کالج سے نکلے تھے۔اگر اسے منظور کر لیتے تو آج سات آٹھ سو تنخواہ لے رہے ہوتے۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد جو ایم۔اے ہیں آج تک ہم انہیں نوے روپے دے رہے تھے۔اب ان کے والد صاحب کی فوتیدگی کی وجہ سے ان پر زیادہ بوجھ آ پڑا ہے۔اس لئے سو دیتے ہیں۔میرے پرائیویٹ سیکرٹری جو گریجویٹ ہیں اُن کو تمیں روپے دیئے جاتے ہیں۔باہر اس تنخواہ پر کہاں کوئی گریجویٹ مل سکتا ہے۔ان لوگوں کو آپ کون سی اعلیٰ ترقی اور اعلیٰ عہدے دے سکتے ہیں۔مولوی شیر علی صاحب کو جن کی ۲۵ سال کے قریب ملازمت ہے ایک سوستر مل رہے ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب جو اس وقت تک چھ سات سو روپیہ تنخواہ لے رہے ہوتے ، انہیں ہم کیا دے رہے ہیں۔پھر دوسرے عملہ کو لے لو۔مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ، حافظ روشن علی صاحب ہیں، شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ہیں، سید ولی اللہ شاہ صاحب ہیں۔شاہ صاحب انگریزی اور عربی جانتے ہیں اور میرے نزدیک ہمارے سلسلہ میں سب سے بہتر عربی لکھنے والے ہیں۔وہ گورنمنٹ کی قید میں جس قدر خرچ کرتے تھے، آپ لوگ آزادی میں اتنا بھی نہیں دے رہے۔ایک سو پچاس روپے ان کی تنخواہ ہے جو کٹ کٹا کر ایک سو پندرہ رہ جاتی ہے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب کو پہلے ستر ملتے تھے، اب سو ملتے ہیں۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری جو مصر سے پڑھ کر آئے ہیں اور انگریزی بھی