خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 134

خطابات شوری جلد اوّل ۱۳۴ مشاورت ۱۹۲۵ء خلیفہ کو ہٹا بھی سکتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کارکن ظالم ہے تو اُسے بھی خدا تعالیٰ ہٹا دے گا۔تم خود نیک بنو اور دعاؤں کے ذریعہ نہ کہ فتنہ انگیزی کے ذریعہ۔جو غلطی اور نقص معلوم ہو اُس کی اصلاح چاہو۔اگر اس بارے میں تمہاری غلطی ہو گی تو خدا تعالیٰ تمہارے دلوں کو صاف کر دے گا اور تمہیں تباہی سے بچالے گا اور اگر تمہاری غلطی نہ ہوگی تو خدا ظالموں کی یا تو اصلاح کر دے گا یا اُنہیں اُن کی جگہ سے ہٹا دے گا۔جماعت کے انتظام کے متعلق آخری آواز اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور آخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا اور جس کی آواز آخری آواز ہے، وہ خلیفہ کی آواز ہے۔کسی انجمن کسی شوری یا کسی مجلس کی نہیں ہے۔یہی وہ بات ہے جس پر جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بے شک تمہارے ہاتھوں میں ہے تم اس کے متعلق دیکھ سکتے اور غور کر سکتے ہو مگر باطنی طور پر خدا کے اختیار میں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے اُن قواعد اور اصول کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں، تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا اور اُسے وہ عصمت حاصل رہے گی جو اس کام کے لئے ضروری ہے۔خلیفہ جماعت کو تباہ کر دینے والی غلطی نہیں کر سکتا میں اس بات کا قائل نہیں کہ خلیفہ کوئی غلطی نہیں کر سکتا مگر اس بات کا قائل ہوں کہ وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرسکتا جس سے جماعت تباہ ہو۔وہ اِس اور اُس کام میں غلطی کر سکتا ہے مگر سب کاموں میں غلطی نہیں کر سکتا۔اور اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر بھی بیٹھے جس کا اثر جماعت کے لئے تباہی خیز ہو تو خدا تعالیٰ اُس غلطی کو بھی درست کر دے گا اور اُس کے بھی نیک نتائج پیدا ہوں گے۔یہ عصمت کسی اور جماعت یا کسی اور مجلس کو حاصل نہیں ہو سکتی۔میں مانتا ہوں کہ خلفاء غلطی کرتے رہے اور اب بھی کر سکتے ہیں۔بعض اوقات میں کوئی فیصلہ کرتا ہوں جس کے متعلق بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ہوگئی ہے۔مگر سوال یہ ہے