خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 133
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۳۳ مشاورت ۱۹۲۵ء اور بعض اوقات ایسا موقع آ جائے گا کہ ایک پارٹی کہے گی یہ مسئلہ جو ہماری طرف سے پیش ہے یہ ضرور ہی صحیح ہے۔ایک طرف یہ حالت ہوگی اور دوسری طرف خلیفہ ہوگا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بد سے بدتر حالت ہو جائے گی اور ایسی بدتر ہو جائے گی کہ جیسی اس وقت مسلمانوں کی بھی نہیں ہے۔مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ہماری تعداد کتنی ہے؟ گزشتہ مردم شماری کے رُو سے پنجاب میں پانچ لاکھ چو ہڑے ہیں اور ۲۸ ہزار احمدی۔اگر تم اپنی قوت کو قائم نہ رکھو گے، اگر تم اپنے اتحاد کو برقرار نہ رکھو گے، اگر تم اپنی طاقت کو منتشر ہونے دو گے اور اپنے ہاتھوں سے تباہ کرو گے تو یا د رکھو دُنیا میں چو ہڑوں کی عزت ہوگی مگر تمہاری نہ ہوگی۔ذرا سوچو تو سہی ” کے آمدی و کے پیر شدی ، “ تم میں طاقت ہی کیا آئی 664 ہے جسے تم بر باد کرنا شروع کر دو۔ہماری حالت آج ہماری حالت اس سے بد تر ہے جو کہتے ہیں بہتیں دانتوں میں زبان کی ہوتی ہے کیونکہ زبان اپنے آپ کو بچا سکتی ہے مگر ہم نہیں بچا سکتے۔ہماری حالت تو یہ ہے کہ زبان گدی سے کھینچ کر کہا جائے اب لقمہ چباؤ۔پھر اس سے بھی بدتر حالت اس وجہ سے ہے کہ ۳۲ دانت اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتے لیکن ہمارے ارد گرد جو دانت ہیں وہ حرکت کر سکتے اور ہمیں پیس سکتے ہیں۔اس لئے آج تو یہ موقع ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی خطرناک غلطیاں دیکھتے ہوئے بھی چشم پوشی کریں اور کوشش کریں کہ ایسے متحد ہو جائیں جس کی مثال قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے کہ ایسی دیوار جو مرصوص ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اتحاد کی ضرورت ہے ورنہ ہم دشمنوں کی نظروں کے سامنے تھوڑے ہی عرصہ میں تباہ ہو جائیں گے اور اس طرح تباہ ہو جائیں گے کہ کوئی ہمارا مرثیہ کہنے والا بھی نہ ہوگا۔ہر حالت میں فتنہ انگیزی سے بچو دیکھو اگر کسی کی شکایت خلیفہ کے سامنے بھی نہ سُنی جائے۔اگر خدا نخواستہ خلیفہ بھی ظلم میں ہمدردی کر کے کام کرنے والوں کی حمایت کرے تو بھی میں یہی کہوں گا کہ صبر کرو نہ کہ کوئی فتنہ انگیزی کی حرکت کرو۔اگر خلیفہ واقعہ میں ظالم اور ظلم کی حمایت کرنے والا ہو گا تو خدا تعالیٰ تمہارے رستہ سے اُسے ہٹا دے گا کیونکہ جب خدا تعالیٰ خلیفہ مقرر کرتا ہے تو وہ