خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 128

خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۸ مشاورت ۱۹۲۵ء کے لئے دے چکے ہیں اور انہوں نے دوہری قربانی کی ہے۔یہاں چندہ خاص میں ایک ماہ کی آمدنی دی گئی ہے مگر انہوں نے ایک ماہ کی آمدنی ہال خریدنے کے لئے دی اور پھر ایک ایک ماہ کی آمدنی چندہ خاص میں دے دی۔وہ لوگ جو کہتے ہیں بہت بوجھ پڑ گیا ہے، وہ اپنے افریقہ کے بھائیوں کو دیکھیں کہ کس شوق سے وہ چندہ دے رہے ہیں۔یہ اس بات کا نمونہ ہے کہ اگر اخلاص اور ایمان ہو تو خدا کی راہ میں دینا کبھی بوجھ نہیں معلوم دیتا بلکہ پہلے سے بڑھ کر کام کیا جاسکتا ہے۔یہ سب باتیں ایسی تھیں جن کا بیان کرنا ضروری تھا۔سیلون کی جماعت اسی طرح سیلون کی جماعت بھی ذکر کے قابل ہے۔گوان میں سے بعض میں کمزوری ہو لیکن ان میں بڑے بڑے مخلص بھی ہیں۔اطلاع مجھے سیلون سے ہی پہنچی ہے کہ جب وہاں کے سیکرٹری نے ایک لاکھ کی تحریک میں کسی قدر سستی سے کام لیا تو میرے پاس خط آنے شروع ہو گئے کہ اُسے متنبہ کیا جائے وہ کیوں سُستی کر رہا ہے۔عراق کے احمدی اسی طرح عراق کے احمدیوں نے بہت شوق سے اور اپنے حصہ سے بڑھ کر چندہ خاص میں حصہ لیا ہے۔ان رپورٹوں میں سے جو اعلیٰ درجہ کی تھیں اُن میں سے ایک ناظم اعلیٰ درجہ کی رپورٹیں بک ڈپو کی ، دوسری تعلیم و تربیت کی اور تیسری تألیف و تصنیف کی تھی۔انہوں نے اپنے کام کو اچھی طرح بیان کیا ہے۔گوناظر تصنیف و تالیف کا کام ایسی حالت میں سے گذرا ہے کہ وہ کوئی کام نہیں دکھا سکے۔مگر انہوں نے معذرت بھی ایسے عمدہ طریق سے کی ہے جو قابل داد ہے۔تفصیل کے لحاظ سے بک ڈپو اور تعلیم و تربیت کی رپورٹیں اعلیٰ تھیں۔مخالفین کا لٹریچر جمع کرنا اس موقع پر میں ناظر صاحب تالیف وتصنیف سے ایک بات کہوں گا جو نہایت ضروری ہے کہ وہ اس لٹریچر کو خاص طور پر جمع کریں جو مخالفین نے ابتداء میں گالیوں سے پُر سلسلہ کے خلاف شائع کیا ہے۔قومی فرائض میں سے ایک بہت بڑا فرض ہے۔اگر ایسا لٹریچر جمع نہ ہوا تو ہمارے لئے لوگوں کو جواب دینا مشکل ہو جائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض جگہ بعض