خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 127

خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۷ مشاورت ۱۹۲۵ء تبلیغ بخارا اسی طرح تبلیغ بخارا ہے۔یہ ابھی نیا کام ہے جو جاری ہوا ہے۔وہاں کے ایک دوست دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں جو اس وقت بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کا آنا ایک نئی بات ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ وہاں تبلیغ شروع ہو چکی ہے اور سعید روحیں احمدیت کو قبول کر رہی ہیں۔ورنہ ہزاروں میل سے اور ایسے علاقہ سے جہاں قدم قدم پر جان کا خطرہ ہو یونہی کوئی نہیں آ سکتا۔غرض اسی قسم کی بہت سی باتیں تھیں جن کا ذکر تبلیغ کے سلسلہ میں کرنا ضروری تھا تا کہ جماعت کو ان سے واقفیت ہو۔طلباء سماٹرا اسی طرح ایک اور بات ہے جسے صیغہ دعوۃ وتبلیغ کو بھی لینا چاہئے تھا اور وہ سماٹرا کے لڑکوں کا آنا ہے جو بہت ہوشیار اور بڑے مخلص ہیں۔ان میں تبلیغ کا اس قدر جوش ہے کہ ابھی سے انہوں نے اپنے ملک کے لوگوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے اور اچھا اثر ڈال رہے ہیں۔یہ بھی نیا کام ہے۔ان طلباء کے ذریعہ چین، فلپائن اور جاپان میں بھی تبلیغ ہو سکتی ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ طلباء ان علاقوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔طلباء سماٹرا کا اخلاص وہ نظارہ دیکھنے کے قابل تھا جب ان طلباء نے سفر یورپ سے آنے پر مجھے ایڈریس دیا تھا۔اس سے نہ صرف خوشی کے جذبات ظاہر ہوتے تھے بلکہ وہ ایک درد ناک نظارہ بھی تھا۔جس طالب علم نے ایڈریس پڑھا اس کی عجیب حالت تھی، اُس کے آنسو رواں تھے۔اُس نے نہایت درد ناک اپیل کی کہ ہمارے ملک کے لوگوں کو اس وقت تک کیوں اس نعمت سے محروم رکھا گیا ہے۔تو ان طلباء کا جوش اور سلسلہ کے لئے غیرت قابل رشک ہے اور بہت اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ سلسلہ کے ایسے کام تھے جن سے جماعت کو واقف کرنا ضروری تھا کیونکہ واقفیت کے بغیر جوش نہیں پیدا ہوسکتا۔۔افریقہ کے احمدی دوستوں کا کام اسی طرح افریقہ کے دوستوں کا کام ہے۔وہاں سو ڈیڑھ سو کے قریب احمدی ہیں۔جب یہ خبر شائع ہوئی کہ کابل میں احمدی مارے گئے ہیں تو ان کی یادگار میں اُنہوں نے آٹھ سو پونڈ ا پر ایک عظیم الشان ہال خریدا۔پھر اُنہوں نے نہ صرف یہ رقم ادا کی بلکہ ایک لاکھ چندہ کی تحریک میں بھی حصہ لیا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ سو ڈیڑھ سو آدمی تین ماہ میں ۲۵ ،۳۰ ہزار روپیہ سلسلہ