خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 121
خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۱ مشاورت ۱۹۲۵ء ہیں اور جن نتائج پر میں پہنچا ہوں اُن کی وجہ سے آج سے بہت عرصہ پہلے میں پاگل ہو چکا ہوتا لیکن وہ مشکلات اگر چہ ہمارے لئے بڑی ہیں لیکن اگر ہم خدا کی رضا کو حاصل کر لیں اور اُس کے قوانین کی پابندی کریں تو وہ خدا کے لئے بڑی نہیں اور اُن کا دور کر دینا اس کے لئے مشکل نہیں۔پس آپ لوگوں کے سامنے جو معاملات پیش ہوں اُن پر نہ صرف نیک نیتی سے غور کرو بلکہ ایسے طور پر غور کرو جس کے نتیجہ میں تمہیں محسوس ہو کہ کتنی بڑی ذمہ داری تم پر عائد ہے۔اور آپ لوگ بھی اگر میری طرح اپنے خیالات کو الگ کر کے اور وہمی جوشوں اور اُمنگوں کو چھوڑ کر غور کریں گے تو وہی کیفیت ہوگی جو میری ہے اور وہی تکالیف معلوم کر لو گے جو میں نے محسوس کی ہیں۔مایوسی کی کوئی وجہ نہیں مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہوں گا کہ ہمارے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔مایوس انسان نہیں ہوتا بلکہ حیوان ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسی طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ ایک کتاب میں جسے الہامی کہا جاتا ہے آتا ہے :- خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔۔اس کا یہی مطلب ہے کہ انسان اتنی ترقی کر سکتا ہے کہ بعض انسان اس کی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ جاتے اور کہہ اُٹھتے ہیں وہ انسان نہیں بلکہ خدا تھا اور نہ صرف انسان اتنی ترقی کر سکتا ہے بلکہ اس نے کی ہے۔انسانی ترقی ایسے انسان ہوئے ہیں جنہیں لوگ خدا کہتے ہیں۔انہوں نے اپنے آپ کو خدا نہیں کہا مگر لوگوں نے اُن کے کاموں کی وجہ سے انہیں خدا قرار دے دیا۔باوجود اس کے کہ وہ کہتے رہے ہم خدا نہیں بلکہ خدا کے بندے ہیں لوگوں کا اُن کو خدا کہنا انسانی عمل کے دائرہ کی وسعت پر دلالت کرتا ہے اور جب انسان کا دائرہ عمل اس قدر وسیع ہے تو پھر مایوسی اور کم ہمتی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اور سب سے بڑی بات جو ہماری تسلی کا موجب ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا میں اُس تعلیم کو پھیلانا چاہتا ہے جس پر ہم قائم ہیں۔پس اگر ہم اپنے قدم کو درست رکھیں گے تو یقینا ہماری فتح ہے۔