خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 104
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء خرچ نہیں لیتا لیکن جب آئندہ کے لئے غور کیا جائے گا تو ایسی باتوں کو مد نظر رکھنا پڑے گا۔یہ حالات ہیں جن کے ماتحت یہ قانون تجویز کیا گیا ہے اور میں اس پر زور اس لئے دیتا ہوں تا یہ ایسے آدمیوں کے ہاتھوں طے پا جائے جن کی اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں۔اور پھر اس لئے کہ ہماری جماعت کے خلفاء پر اموال یا انتظام کے نقص کا دھبہ نہ لگے۔کوئی نہ کہہ سکے کہ ایسا آدمی تم پر مقرر ہوا کہ تمہارے اموال محفوظ نہ رہے۔“ اس کے بعد فرمایا، چونکہ اب سوال کی بہت وضاحت ہوگئی ہے اس لئے دوسرے احباب بھی اگر کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں“ اس پر خان ذولفقار علی خان صاحب نے کہا کہ آئندہ خلفاء کے لئے تو الفاظ میں گنجائش رکھی گئی ہے مگر موجودہ کے لئے نہیں۔حافظ روشن علی صاحب نے کہا کہ حسب وسعت ادائیگی کی شرط وقارِ خلافت کے خلاف ہے۔خلیفہ کا کوئی سفر پرائیویٹ نہیں ہوسکتا اس لئے تمام سفروں کے اخراجات دیئے جانے چاہئیں اور خلیفہ کی اولاد کی تعلیم و تربیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔چودھری غلام احمد خان صاحب پاکپٹن نے کہا۔لفظ نیا اُڑا دینا چاہئے۔سید ارتضی علی صاحب لکھنو نے کہا کہ اگر خلیفہ کسی رقم کا انکار کرے تو وہ رقم بطور امانت جمع رہنی چاہئے تا بوقت ضرورت خلیفہ کے کام آ سکے۔قاضی عبدالحمید صاحب امرتسر نے کہا کہ اگر شوری کسی وقت خلیفہ کا گزارہ دو روپیہ مقرر کر دے تو مشکل ہوگی اس لئے بڑھانے گھٹانے کا اختیار ہونا چاہئے۔شیخ فضل کریم صاحب دہلی نے کہا کہ یکمشت کا لفظ اُڑا دینا چاہئے۔حافظ روشن علی صاحب نے کہا کہ گزارے والی شوری کا صدر بھی کوئی اور شخص ہوسکتا ہے۔شیخ محمد حسن صاحب سب جج نے کہا کہ گورنمنٹ افسروں کو سفروں کے اخراجات ملتے ہیں اس لئے تمام ایسے اخراجات خلیفہ کو ملنے چاہئیں۔بابو عبدالحمید صاحب لاہور نے کہا کہ علاوہ اخراجات دورہ وغیرہ کے گورنمنٹ افسروں کو مہمان نوازی وغیرہ کے اخراجات بھی دیتی ہے، یہ بھی دینے چاہئیں۔