خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 103

خطابات شوری جلد اوّل ۱۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء جیسوں نے بھی لکھا ہے مگر یہ صریح غلط ہے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ خلفاء کی چار قسم کی آمدنی تھی۔(۱) بیت المال سے وظیفہ۔یہ اڑھائی سو روپیہ کے قریب ہوتا ہے۔(۲) ایک وظیفہ مقرر کیا گیا تھا بحیثیت صحابی ہونے کے۔اس کے متعلق حضرت ابوبکر کا علم نہیں مگر حضرت عمرؓ کو ۵۰۰۰ درہم سالانہ ملتے تھے۔یہ بدری صحابی کو ملتا تھا یعنی جو بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے انہیں دیا جاتا تھا۔(۳) جنگ میں جو فتوحات ہوتیں اور مال آتے وہ آ کر تقسیم ہوتے اور صحابہ کو دیئے جاتے۔اس کا ثبوت اسی واقعہ سے ملتا ہے جس سے کہتے ہیں خلفاء کو لوگ بُرا بھلا بھی کہہ دیتے تھے۔لکھا ہے کہ حضرت عمر نے جبہ پہنا۔وہ اس کپڑے سے زیادہ تھا جو ان کے حصہ میں آیا تھا۔کسی نے کہا اُس سے تو یہ نہیں بن سکتا تھا، پھر کس طرح بنایا ہے؟ حضرت عمرؓ نے عبداللہ بن عمر کو بلایا اور اس نے آکر کہا کہ میں نے اپنے حصہ کا کپڑا بھی انہیں دے دیا ہے۔(۴) دوست احباب ہدیہ دے دیتے تھے۔میرے نزدیک خلفاء کے متعلق یہ ایک فتنہ ہے جو آئندہ زمانے میں پیدا ہو سکتا ہے اس لئے ہم ابھی سے گزارہ کے متعلق تشریح کر دیں تا کہ آئندہ خلفاء کو دقت نہ ہو۔اس کے متعلق میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ مجلس شوریٰ ایک طرف اس بات کو مدنظر رکھے کہ ایسی بات نہ ہو کہ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ قوم کے مال کا خلفاء بے جا تصرف کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہ ایسا گزارہ بھی مقرر نہ کرے کہ خلیفہ کے وقار کو صدمہ پہنچے۔بعض ایسے اخراجات ہو جاتے ہیں جو دوسرں کے لئے ان کو کرنے پڑتے ہیں۔مثلاً میں جب تک اس منصب پر قائم نہ ہوا تھا اپنے ذاتی اخراجات اُس وقت کم ہوتے تھے مگر اب بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔پہلے پرائیویٹ سیکرٹری کی ضرورت نہ تھی مگر اب جماعتوں کو ملنے ملانے اور دیگر کاموں کے لئے ضرورت ہے۔پھر باہر جاتے وقت علماء کی ضرورت نہ ہوتی تھی مگر اب ہوتی ہے۔یہ خلافت کی وجہ سے اخراجات ہوتے ہیں۔اُس وقت اگر ایک روپیہ سفر پر خرچ ہوتا تھا آج سو کرنا پڑتا ہے۔میں تو خرچ نہیں لیتا سوائے اُس سفر کے جو جماعت کے لئے ہو اور یہ بھی پہلے نہیں لیتا تھا مگر اب مالی مشکلات کی وجہ سے لے لیتا ہوں مگر ذاتی ضروریات کے لئے کہیں جاؤں تو