خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 102

خطابات شوری جلد اوّل ۱۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء کرتے ہوئے ڈرتے ہیں آپ ذکر کریں۔وہ گئیں اور جا کر کہا بعض صحابہ آپ کے گزارہ میں وسعت کرنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت عمرؓ بہت ناراض ہوئے اور کہا کیا تو مجھے فتنہ میں ڈالنا چاہتی ہے؟ اس سے ظاہر ہے کہ رقم گزارہ میں اضافہ کی کوشش کی گئی گو حضرت عمر نے منظور نہ کیا۔تیسری قرضہ کی صورت رکھی ہے۔یہ ثابت ہے کہ جب حضرت عمر فوت ہوئے تو ۴۲ ہزار درہم قرضہ اُن کے ذمہ تھا۔یہ سب صورتیں خلفاء کے طرز سے ثابت ہیں۔پس خلیفہ کو حق ہونا چاہئے کہ بیشی کا انکار کر دے۔ایسا نہ کرنے سے اُس کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے اور بد نتائج بھی ہوتے ہیں۔کچھ عرصہ کی بات ہے کہ انجمن میں کسی نے یہ سوال پیش کیا کہ چونکہ گرانی کا وقت ہے اس لئے خلیفہ کو ہا سو روپیہ ماہوار دیا جائے۔اس انجمن میں اوروں کی تنخواہیں بھی بڑھائی گئیں۔میرے اپنے نفس کی یہ حالت ہے کہ میں اپنا گزارہ اس طرح نہیں چاہتا۔گونا جائز نہیں کہتا کیونکہ اُنہوں نے اسے جائز کہا ہے جن کا میں ادب کرتا ہوں اور بزرگ سمجھتا ہوں۔تو میں یوں بھی اس رقم کو منظور کرنے سے انکار کرتا مگر یہ بھی خیال آیا کہ اگر منظور کر لوں تو یہ کہا جائے گا کہ چونکہ اوروں نے اپنی تنخواہیں بڑھائی ہیں اس لئے یہ رقم خلیفہ کو رشوت دی ہے تا کہ وہ اعتراض نہ کرے۔گو یہ بات نہ تھی کیونکہ تجویز حافظ روشن علی صاحب نے پیش کی تھی اور وہ انجمن کے ملازم نہ تھے۔مگر چونکہ اعلان نہیں ہوتا کہ فلاں تجویز رکس نے پیش کی اور لوگوں کے سامنے صرف فیصلہ آتا ہے اس لئے فتنہ پیدا ہوسکتا تھا۔پھر میرے نزدیک اگر خلیفہ کو پابند کریں کہ مجلس شوری اگر اُس کے گزارہ میں اضافہ کرے تو وہ منظور کرے اس سے اُس کے وقار کو صدمہ پہنچتا ہے اور کئی لوگوں کے لئے بدظنی کا موقع پیدا ہوتا ہے اس لئے انتظام تو کرنا چاہئے کہ ضرورت کے وقت اضافہ کیا جائے مگر یہ گنجائش رکھنی چاہئے کہ خلیفہ انکار بھی کر سکے۔ہاں یہ بات بتا دینا چاہتا ہوں گو امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کی آئندہ زیادہ توجہ تاریخ اسلام اور صحابہ کے اعمال کی طرف رہے گی نہ کہ جھوٹی روایات پر کہ بعض لوگ نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو صرف ۱۵ روپے گزارہ کے لئے ملتے تھے۔ایک شخص نے میرے سامنے یہ کہا۔میں نے کہا ہم تو ۱۵ بھی نہیں لیتے۔مگر یہ صحیح نہیں کہ ۱۵ روپیہ لیتے تھے۔شبلی