خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 89

خطابات شوری جلد اوّل ۸۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء میں ایک جلسہ ہو ا تھا۔جلسہ کرنے والوں نے ہمارے آدمیوں کو کہا کہ لاؤ اپنے خلیفہ کو اُس سے بحث کریں گے۔ہمارے آدمیوں نے کہا خلیفہ کو نہ کہو ہم خود بحث کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر خلیفہ کو لانا ہے تو تم بھی اپنے خلیفہ کو لاؤ۔اُنھوں نے کہا کیا تمہیں سلیمان کا قصہ یاد نہیں ! جب ہمارا خلیفہ آیا تو تمہارا خلیفہ مچھر کی طرح اُڑ جائے گا۔اب خدا نے ایسی ہوائیں چلائیں کہ مچھر اُڑ گیا۔مگر کون مچھر ثابت ہوا؟ حضرت مسیح موعود کا خلیفہ یا وہ جس کے مددگار چالیس کروڑ مسلمان تھے؟ جب اُسے مقابلہ پر لایا گیا تو دوسال میں وہ مچھر اُڑ گیا۔مگر باوجود اس کے ہمیں اس سے ہمدردی ہے کہ اس سے شرافت کا سلوک نہیں کیا گیا اور اس کو اس کے دوستوں نے تباہ کیا ہے۔ہمیشہ حضرت مسیح موعود کے سامنے مخالفین خلافت ٹرکی کو لایا کرتے تھے اور کہتے تھے مسیح موعود کے آنے سے پہلے لڑکی کو مٹنا چاہئے ، مگر وہ ابھی ہے۔اب خدا نے اسے مٹا دیا۔پھر کہتے تھے کیا ہوا یہی خلافت باقی ہے۔خدا نے اُس کو بھی مٹا دیا۔احمد یوں کو سبق یہ بیان کرنے سے میری غرض دو باتوں کی طرف توجہ دلانا ہے اوّل یہ کہ خدا کس قدر غیرت والا ہے۔اُس نے خلافت ٹرکی کو کس طرح مٹا دیا۔تم بھی کبھی جوش اور غصہ میں آکر کوئی ایسی بات مُنہ سے نہ نکالو جو خدا کی غیرت کو جوش دلائے۔دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان اب بالکل بے سرے ہو گئے ہیں اور ان کی تباہی کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہے تم نے چونکہ اسلام کی حمایت کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے تمہارا فرض ہے کہ اِن پراگندہ بھیڑوں کو اِس ہاتھ پر جمع کرو جو خدا نے ان کی حفاظت کے لئے بڑھایا ہے اور جس کے بغیر کوئی بچاؤ کی جگہ نہیں اور جس سے علیحدہ رہ کر نہ کوئی بادشاہ بچ سکتا ہے نہ غیر بادشاہ۔مطالبہ رپورٹ از نمائندگان اب میں پچھلے سال کی رپورٹ کو لیتا ہوں۔ناظر اعلیٰ کا یہ کام ہے کہ تمام جماعتوں کے نمائندے اِس امر کے متعلق اپنی رپورٹیں لائیں کہ پچھلے سال کی مجلس مشاورت کے نتیجہ میں جو فیصلے کئے گئے تھے اُس پر اُن کی انجمن نے کیا عمل کیا ہے۔ان رپورٹوں پر مجلس مشاورت میں غور کیا جائے گا۔مگر جس وقت اور جس طرح یہ اعلان ہوا ہے اس کی رو سے سب وقت رپورٹوں کے