خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page xi

(vii) انتظامی ہے اس کے لئے عہدہ دار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔ان کارکنوں پر مجلس شوری کی کوئی حکومت نہیں ہے۔یہ طریق عمل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے وقت نظر آتا ہے۔اسامہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کا سردار مقرر کیا باقی لوگ اس کے خلاف تھے مگر آپ نے کسی کی پرواہ نہ کی۔پھر حضرت عمرؓ نے جب حضرت خالد کو سپہ سالاری سے معزول کیا تو مجلس شوریٰ اس کے خلاف تھی مگر آپ نے وجہ تک نہ بتائی۔دو خطابات شورای جلد اوّل صفحه :۴۰۳) دوسرا حصہ خلیفہ کے کام کا اصولی ہے۔اس کے لئے مجلس شورای سے وہ مشورہ لیتا ہے پس مجلس معتمدین انتظامی کاموں میں خلیفہ کی ویسی ہی جانشین ہے جیسے مجلس شورای اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے۔ان دونوں کا آپس میں سوائے خلیفہ کے واسطہ کے کوئی واسطہ اور جوڑ نہیں ہے 66 خطابات شورای جلد اوّل صفحه : ۴۰۳) حضرت مصلح موعودؓ نے مجالس شورای کے موقع پر اپنے خطابات میں احباب جماعت کے سامنے جہاں شوری کے نظام کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا وہاں آپ نے خلیفہ اس کے مقام اور استحکامِ خلافت کے لئے گراں قدر را ہنمائی فرمائی اور احباب جماعت کو یہ باور کروایا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور اسے آسمانی را ہنمائی مل رہی ہوتی ہے۔۱۹۲۸ء کی مجلس مشاورت سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : ہاں میں یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ میرے پیچھے ایک اور ہستی ہے اور ایک بالا طاقت ہے۔جب میرا قدم چلنے سے اور ہاتھ اُٹھنے سے رہ جاتے ہیں تو وہ ہستی آپ اُٹھاتی ہے اور آسمان کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔وہی طاقت ہر احمدی کے پیچھے ہے۔جو اپنی ذات کے متعلق تکبر نہیں کرتا وہ