خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page x

(vi) مجلس مشاورت کی عزت و احترام اور عالی مقام کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے مجلس شورای ۱۹۲۸ء کی افتتاحی تقریر میں فرمایا : ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری مجلس شوری کی عزت ان بنچوں اور کرسیوں کی وجہ سے نہیں ہے جو یہاں کچھی ہیں بلکہ عزت اُس مقام کی وجہ سے ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اسے حاصل ہے۔ بھلا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اُس لباس کی وجہ سے تھی جو آپ پہنتے تھے۔ آپ کی عزت اُس مرتبہ کی وجہ سے تھی جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔ اسی طرح آج بے شک ہماری یہ مجلس شوری دنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دُنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہوگا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہوگا کیونکہ اس کے ماتحت ساری دُنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی ۔ پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا۔ اور وہ وقت آئے وہ گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔“ خطابات شورای جلد اول صفحه : ۲۷۵) نظام خلافت میں مجلس شورای کے مقام اور یہ کہ وہ کس طرح خلیفہ کی جانشین ہوتی ہے اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۰ء کی مجلس مشاورت میں اصولی راہنمائی فرمائی۔ آپ فرماتے ہیں : : دو مجلس شوری جماعت احمدیہ کی ایگزیکٹو (EXECUTIVE) باڑی نہیں ہے۔ اسی بناء پر ہمارا غیر مبائعین سے اختلاف ہوا تھا کہ وہ خلیفہ کی بجائے انجمن کو جماعت کا ذمہ دار قرار دیتے تھے حالانکہ تولیت خلیفہ کی ہے۔ آگے خلیفہ نے اپنے کام کے دو حصے کئے ہوئے ہیں۔ ایک حصہ