خطابات — Page 76
76 ہے، جماعت کا غلبہ ہونا ہے جیسا کہ بے شمار الہامات اس بارہ میں ہیں۔ایک جگہ آپ نے فرمایا كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی یہ آپ کو الہام بھی ہو ا تھا، آیت بھی ہے۔تو آپ نے اس کا یہی ترجمہ فرمایا کہ خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کا رسول غالب رہیں گے۔یہاں اسلام کی طرف بھی اشارہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی طرف بھی کیونکہ اس زمانہ میں اسلام کی ترقی آنحضرت کی پیشگوئیوں کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ ہے۔پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غلبہ عطا فرمانا ہے۔لیکن اس کے لئے دنیاوی سامان بھی ہوتے ہیں اور یہ سامان بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے اور فرماتا رہا ہے اور اب بھی فرما رہا ہے۔آپ نے اپنے زمانہ میں جو کتب لکھیں اور ان کی اشاعت کی ، بلکہ ایک خزانہ تھا جو کہ دیا اور دنیا کے سامنے پیش فرمایا وہ بھی اس غلبہ کے لئے ایک ذریعہ تھا۔اور اب اس زمانہ میں اس خزانہ کو ایم ٹی اے کے ذریعہ دنیا تک پہنچانے کے سامان بھی اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت کی ترقی اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق جاری کردہ آپ کی خلافت کے نظام کی برکات ہیں، ان کو دکھانے کا ذریعہ بھی ایم ٹی اے کو بنایا۔پس ایم ٹی اے ان سامانوں میں سے ایک سامان ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچایا اور پہنچا رہا ہے اور اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ اس زمانہ کی ایجادات کا اگر صیح استعمال ہو رہا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سورة المجادلة آيت 22