خطابات — Page 101
101 میں شامل ہونے والوں سے وابستہ انعامات کا وارث بنے گا۔آنحضرت ﷺ کی حقیقی امت میں شامل ہوگا۔صرف دعوئی ہی نہیں ہوگا جیسا کہ آجکل کے مسلمان کرتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ دنیا میں امن وسلامتی کا پیغام پہنچانے والا بھی ہوگا۔اس خوبصورت پیغام کی وجہ سے اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتاری مخالفین کو بھی اس ذریعہ سے یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ ان کی سختی کا جواب پیار سے دیا جائے اور جب سختی کا جواب نرمی سے ہو، غصے کا جواب صبر سے ہو تو ایک وقت آتا ہے جب مخالف سے مخالف بھی بات سننے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، سوائے اس کے جن کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت کر دیئے گئے ہیں، جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ان کو ہدایت نہیں ملنی۔اور جب مخالف اسلام، اسلام کے محاسن کا علم حاصل کرے گا تو یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا کہ واقعی یہ ایک کامل دین ہے۔ہر احمدی کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ خلافت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے اور آنحضرت کے دین کی اشاعت کے لئے ہر قربانی کرتے ہوئے آگے بڑھتا چلا جائے۔اس زمانہ میں مسیح محمدی کے غلاموں میں شامل ہو کر نحن انصار اللہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے ایمان کو بھی کامل کرتے چلے جائیں اور اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کے معیار بھی بلند سے بلند کرتے چلے جائیں۔اور جب یہ ہوگا تو ہر فر د بھی اس زمانہ کے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو انفرادی طور پر بھی اپنے ساتھ پورا ہوتے ہوئے دیکھے گا۔اور اجتماعی طور پر تو یہ مقدر ہو ہی چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے مومنوں کی اس جماعت نے جو مسیح محمدی سے منسوب ہے تمام دنیا پر غالب آنا ہے۔