خطابات — Page 77
77 ذریعہ سے ہو رہا ہے۔اس وقت ایم ٹی اے کے تین چینلز نہ صرف اپنوں کی تربیت کا کام کر رہے ہیں بلکہ مخالفین اسلام کا ان دلائل سے منہ بند کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ہمیں دیئے۔پس ایم ٹی اے کو جہاں اللہ تعالیٰ نے غلبہ دکھانے کا ذریعہ بنایا ہے وہاں غلبہ عطا فرمانے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر بھی مہیا فرمایا ہے جو اُن مقاصد کو لے کر ہر گھر میں داخل ہو رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا مقصد تھے۔یعنی وہ کام جو آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کئے تھے اور اس زمانہ میں وہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د تھے۔گویا اُن کاموں کو آگے چلاتے چلے جانا آپ کے سپر د ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے سپر دفرمائے تھے۔جس میں معجزات دکھانا بھی تھا۔جس میں دلوں کا تزکیہ بھی تھا۔جس میں قرآن کریم کی تعلیم کو پھیلانا بھی ہے۔جس میں انسانیت میں حکمت کے موتی بکھیرنا بھی ہے۔اور اگر آج ہم دیکھیں تو اس زمانہ میں اس زمانہ کی ایجادوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے باوجود اسلامی ملکوں کے چینلوں کے اور اس کے علاوہ بعض اسلامی تنظیموں کے چینلوں کے یہ صرف اور صرف ایم ٹی اے ہے جو ان تمام کاموں کو انجام دے رہا ہے۔اگر غور سے انہیں سنیں تو یہ چاروں باتیں آپ کو نظر نہیں آئیں گی۔اگر ایک بات صحیح کرتے ہیں تو دوسری جگہ ایک ایسی مضحکہ خیز بات کر جاتے ہیں جس سے کوئی عقلمند انسان اسلام کا صحیح تصور قائم نہیں کر سکتا۔پھر دنیا کے دوسرے ٹی وی چینل ہیں ان کا اشتہاروں کے بغیر چلنا مشکل ہے جس میں لغویات اور بیہودگیاں ہیں۔اسلامی ملکوں کے چینلز کا بھی یہی حال ہے کہ تفریح کے نام پر پروگرام بھی لغو اور بیہودہ