خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 110

خطابات — Page 45

45 1 "خدا کرے یہی ہو کہ میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔لیکن مخالفین اور بعض اپنے جن کے دلوں میں نفاق تھا سمجھتے تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول بوڑھے اور کمزور ہیں جماعت کو کیا کنٹرول کریں گے۔دشمن سمجھتا تھا کہ انتظامی کمزوری کی وجہ سے آہستہ آہستہ جماعت ختم ہو جائے گی اور منافق طبع جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو جماعت کا ستون سمجھتے تھے ان کے خیال میں انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حقیقی نائب ہے۔ان کے سپرد سب کام ہونا چاہیے۔ان ہر دو قسم کے فتنوں اور حملوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسی سختی سے دبایا کہ جو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خلافت کا ہی کام ہے۔آپ نے خلافت کے منصب پر فائز ہوتے ہی پہلی تقریر جو فرمائی اس کے آخر پر فرمایا ” اب تمہاری طبیعتوں کے رُخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی اور اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعا د کر ہا اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔یعنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمائے تھے۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتاً فوقتاً اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات۔دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشا کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُوْنَ اخبار بدرنمبر 10 جلد 8 مورخہ 7 جنوری 1909ء صفحہ 5 کالم 1-2 و تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 221۔مطبوعہ 2007ء - نظارت نشر و اشاعت قادیان بھارت