خطابات — Page 35
35 سے ماننے والے ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بجالانے والے ہوں گے۔صرف نمازیں پڑھنا ہی کافی نہیں ، صرف روزے رکھنا ہی کافی نہیں ، صرف زکوۃ دینا ہی کافی نہیں ، صرف حج کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جن اعمال صالحہ کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے ان کو بجالانے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔اصل میں تو ایمان اور اعمال صالحہ لازم وملزوم ہیں۔ایمان کے بغیر اعمال کسی قابل نہیں اور اعمال صالحہ کے بغیر ایمان کامل نہیں۔پس اللہ تعالیٰ خلافت کے ساتھ وابستہ کر کے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جو حقوق اللہ ادا کرنے والا بھی ہو اور حقوق العباد ادا کرنے والا بھی ہو۔ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایمان اور عمل صالح سے تعلق میں فرماتے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فسادنہ ہو۔یادرکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔وہ کیا ہیں؟ ریا کاری ( کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے )۔عجب ( کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے ) اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اس سے صادر ہوتے ہیں ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، جب ، ریا، تکبر حقوق انسان کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔جیسے آخرت میں عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی اس دنیا میں بھی بچتا ہے“۔فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچارہتا ہے۔