خطابات — Page 29
29 بھول تھی جو خدا تعالیٰ کی اپنے فرستادوں کیلئے غیرت رکھنے کے علم سے بے بہرہ تھے۔ان لوگوں کی عقل پر پردے پڑے ہوئے تھے اور آنکھیں اندھی تھیں، جو نہیں جانتے تھے کہ یہ شخص جو آج اس دنیا سے رخصت ہوا اپنے آقا ومطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کی چودہ سو سال پہلے کی پیشگوئیوں کا مصداق ہے۔اس شخص نے مومنین کی وہ جماعت قائم کی ہے جس کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں ایسے لوگوں کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دیتا ہوں اور اپنی تائید ونصرت سے انہیں نوازتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ حقیقی مومنین کو یہ خوشخبری دی تھی کہ مسیح و مہدی کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد دشمن کی خوشی عارضی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کی چادر میں اس مسیح و مہدی کے غلاموں کو لپیٹ لے گا۔ایک حدیث میں اپنے زمانہ سے لے کر آخرین کے زمانے تک کا نقشہ کھینچتے ہوئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اور یہ روایت ہے حضرت حذیفہ سے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اس کو اٹھالے گا اور خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہوگی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔جب یہ دور ختم ہوگا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔یہ فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔لے دیکھیں مشکوۃ باب الانذار والتحذیر۔الفصل الثالث - حدیث 5378۔دارالکتب العلمیۃ بیروت طبع اوّل 2003ء و مسند احمد بن مقبل جلد 6 - مسند نعمان بن بشیر - حدیث 18596 صفحہ 285 - عالم الكتب بیروت 1998ء