خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 110

خطابات — Page 28

28 ہوئے اور اپنے مولا کی ابدی جنتوں کے وارث ہوئے جس کے لئے وہ بے چین رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی کا ہرلحہ بھی ہمیں اس زندگی کی آرزو کرتا نظر آتا ہے جو ابدی زندگی ہے۔آپ کی وفات پر افراد جماعت کو یقین نہیں آتا تھا کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔بہر حال جب پتہ چلا کہ یہ حقیقت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو خود ایک عرصہ سے اس خبر کے لئے جماعت کو تیار کر رہے تھے۔الہامات بھی اس بارہ میں ہو رہے تھے۔20 مئی 1908 ء کو آپ کو الہام ہو اتھا کہ اَلرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ وَالْمَوْتُ قَرِيْب یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے۔ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔اس بات پر جب احباب جماعت کو یقین ہو گیا کہ یہ بات سچ ہے، بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ مغرب کی نماز میں مسجد مبارک قادیان کی چھت پر آہ و بکا اور گریہ وزاری سے ایک محشر برپا تھا۔لیکن دوسری طرف مخالفین کی شرمناک حرکات بھی اپنے عروج پر تھیں۔لا ہور میں احمد یہ بلڈنگ کے نزدیک ، جہاں آپ کا جسد مبارک رکھا ہو اتھا شہر کے آوارہ مزاج لوگوں کو مخالفین نے جمع کر کے خوشی کے نعرے لگائے اور گیت گائے۔بیہودگی اور بے حیائی کی انتہا تھی جو اُس وقت ان لوگوں نے کی۔اوباشوں سے تو یہ توقع کی جاسکتی تھی لیکن بعض کم ظرف اور ذلیل اخبار نویسوں نے بھی آپ کی وفات پر خوشی کا اظہار کر کے اپنے کم ظرف ہونے کا ثبوت دیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ اب مرزا صاحب کی وفات کے بعد یہ سلسلہ نعوذ باللہ تباہ و برباد ہوگا لیکن ان بیہودو لوگوں کو سیہ پتہ نہیں تھا، یہ ان کی بھول تھی ، یہ دنیا کے ان کیٹروں کی گھٹیا خواہش تھی۔یہ ان لوگوں کی اخبار بدر جلد 7 نمبر 22 مؤرخہ 2 جون 1908ء صفحہ 3 بحوالہ تذکرہ۔صفحہ 640۔ایڈیشن چہارم 2004 ء