خطابات — Page 94
94 میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اُس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم صلى الله میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوگا۔اس لئے اُس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عظم نے اپنے رنگ میں خدا تعالی کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں، وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گئے پس اشاعت دین کی تکمیل کا کام نئے زمانہ کی ایجادات کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں شروع ہوا اور آپ کے صحابہ نے بھی بھر پور رنگ میں اس میں حصہ لیا۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب جو قر آن کریم کے علم و معرفت کے خزانہ سے بھری پڑی ہیں، قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے رستے دکھاتی ہیں، قرآن کریم کے اُن خزانوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو اس زمانہ میں ظاہر ہونے تھے۔الله پس آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے دین کو جو آپ ﷺ پر کامل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے غلام صادق کے زمانہ میں تمام دنیا تک پہنچانے کا انتظام فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اور آپ کے صحابہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ " کا وعدہ پورا فرمایا۔ہم احمدی خوش حقیقة الوحی صفحہ 67 - روحانی خائن جلد 22 صفحہ 502 سورة الجمعة - آيت 4