خطابات — Page 44
44 1 میں یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ الہام کہ میں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں ہر دن بڑی شان کے ساتھ پورا ہو رہا ہے اور ہوتا چلا جا رہا ہے جس کا پہلا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ہوا جب مومنین کی تسکین کے سامان فرماتے ہوئے حضرت خلیفۃ مسیح الاوّل کے ہاتھ پر تمام جماعت کو جمع کر دیا۔اس وقت غیروں کا خیال تھا کہ اس اسی سالہ بوڑھے نے جماعت کو کیا سنبھالنا ہے۔ایک اخبار کرزن گزٹ نے لکھا کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے ان کا سر کٹ چکا ہے ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے اور تو کچھ ہو گا نہیں۔ہاں یہ ہے کہ وہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔لیکن اس شخص نے جس کے متعلق کہتے تھے کہ کچھ ہو گا نہیں، وہ کام تو یقیناً کیا جس کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی یعنی قرآن کریم کے حقائق و معارف بیان کرنا۔اور اصل میں تو یہی حقیقی کام ہے جس کے لئے حضرت ابراہیم السلام کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو عَلِيه مبعوث فرمایا تھا اور یہی کام تھا جس کے کرنے کے لئے آخرین میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا اور یہی کام تھا اور ہے جس کے لئے جماعت میں اللہ تعالی نے خلافت کا نظام جاری فرمایا ہے۔لیکن دنیا کی آنکھ اس عظیم مقصد کو کیا سمجھ سکتی ہے۔بہر حال حضرت خلیفہ اسی الاول نے اس بات پر فرمایا کہ اخبار بدر۔نمبر 10۔جلد 8-7 جنوری 1909 ء صفحہ 5 کالم 1-2 و تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولا نا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 221۔مطبوعہ 2007ء - نظارت نشر و اشاعت قادیان۔بھارت