خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 110

خطابات — Page 34

34 كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے جولوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سے اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔اور ان کے لئے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔پس جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو 1 نافرمان ہیں۔یہ آیت مومنین کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے اور دلوں کی بصیرت کے لئے ایک ایسی مرہم ہے جس پر جتنا بھی خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔لیکن یہ فکر میں ڈالنے والی بات بھی ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ یہ میرا وعدہ ہے مومنین سے، ایسے لوگوں کے ساتھ جو ایمان میں پختہ ہیں، جو نمازیں ادا کرنے والے ہیں، جو زکوۃ دینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ادا کرنے والے ہیں۔ایمان کی اللہ تعالی نے مختلف جگہ پر جو وضاحت فرمائی ہے اس میں سب سے پہلے غیب پر ایمان ہے۔اگر یہ ایمان کامل ہوگا تو پھر انسان خالص خدا تعالیٰ کا عبد کہلانے والا ہوگا۔پھر ایسے شخص کی تمام محبتیں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوں گی۔ایسے مومنین کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہیں گے اور وہ تقویٰ کی راہوں پر چلنے والے ہوں گے۔وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو کامل فرمانبرداری سورۃ النور۔آیت 56