خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 110

خطابات — Page 27

27 کھانے کھانے اور مٹھائی کھانا ہمارا مقصد نہیں ہے۔یہ پروگرام جو اس وقت ہورہا ہے یا مختلف جماعتوں میں ہوگا صرف خوشی منانے کے لئے نہیں ہے۔ٹھیک ہے ، یہ بھی ایک مقصد ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہے لیکن اس اظہار سے ہماری توجہ تقویٰ کی راہوں کی طرف پھر جانی چاہئے۔اگر یہ ظاہری شور شرابا تصنع اور بناوٹ اور پروگراموں میں دنیا داری کے اظہار کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہے تو یہ عمل اسی طرح قابل کراہت ہے جس طرح جلسہ سالانہ سے پاک تبدیلیاں پیدا کئے بغیر چلے جانا یا کوئی بھی غیر صالح عمل جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے بغیر ہو۔پس آج کا دن ایک نیا عہد باندھنے کا دن ہے۔آج کا دن ہمیں اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے کا دن ہے۔آج کا دن ہمیں اُس دن کی یاد دلانے کا دن ہے جب افراد جماعت پر آج سے سو سال پہلے ایک زلزلہ آیا تھا۔آج کے دن سے ایک دن پہلے ایک واقعہ ہو ا جس نے جماعت کو ہلا کر رکھ دیا۔26 مئی 1908ء کا دن جب خدا کا پیارا مسیح موعود اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گیا۔اس واقعہ کی خبر اللہ تعالی آپ کو ایک عرصہ سے دے رہا تھا جس کا ذکر آپ نے جماعت کے سامنے کرنا شروع کر دیا تھا اور رسالہ الوصیت میں بڑا کھل کر جماعت کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے ایمان اور تقوی میں بڑھنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی اور جماعت کو تسلی دی کہ یہ نہ سمجھتا کہ میرے جانے سے خدا کا تائیدی ہاتھ تم سے اٹھ جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے میرے بعد بھی پورے ہوتے رہیں گے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ہر ایک انسان جو اس دنیا میں آیا اس نے جانا ہے۔تمام انبیاء بھی اسی قانون کے تحت رخصت