خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 110

خطابات — Page 73

73 اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہمیشہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی اور اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ بھی ہر احمدی کو حقیقت میں چمٹائے رکھے۔اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والا بنائے رکھے اور خلافت احمدیہ کی حفاظت کے لئے قربانی کے عہد کو پورا کرنے والا بنائے رکھے۔اور آج ہم نے جو نظارے دیکھے، جو ایک اکائی دیکھی، جو وحدت دیکھی ، خلافت سے محبت و وفا کے جذبات کا اظہار و یکجہتی جو غیروں کے لئے ایک متاثر کرنے والی چیز اور ایک معجزہ تھا اسے قائم رکھنے کے لئے جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے حضور ہم جھکنے والے بنے رہیں تا کہ اس شکر گزاری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے انعاموں کو ہم میں سے ہر ایک کے لئے اور ہماری نسلوں کے لئے بھی دائمی کردے کیونکہ یہ اللہ تعالی کا مومنین سے وعدہ ہے کہ اگر تم شکر گزار بنو گے تو میں اپنے انعام مزید بڑھاؤں گا۔تمہارے ایمانوں کو مزید ترقی دوں گا۔نتیجةً تم میرے فضلوں کے وارث بنتے چلے جاؤ گے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ یعنی اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔آج ان دنوں میں جب اپنی ڈاک دیکھتا ہوں تو دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔سوچتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں۔اس کے انعامات کی بارش اس طرح جماعت پر ہورہی ہے کہ اس کے مقابل پر اگر جسم کا رواں رواں بھی شکر گزار ہو جائے تو شکر ادا نہیں ہوسکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کس طرح اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر جو خلافت کی صورت میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سورۃ ابراہیم۔آیت 8