خطابات — Page 46
46 إِلَى الْخَيْرِ یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی ہے ،، غیروں کی خواہش کہ جماعت کو ٹوٹتا ہوا دیکھیں تو پوری نہ ہوئی اور نہ ہوسکتی تھی لیکن اندرونی خطرے بعض منافقین یا ان کے ہاتھوں کھلونا بنے والوں کی وجہ سے اٹھتے رہے اور جب بھی حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا علم ہو ا آپ ان کا پُر حکمت اور سختی سے نوٹس لیتے رہے۔ایک ایسے ہی موقع پر آپ نے مسجد مبارک میں بڑا جلالی خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا: " تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہو اجو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے۔مسجد مبارک کا کچھ حصہ بعد میں بڑھتا چلا گیا تھا جو پہلا حصہ تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا تھا۔آپ اس حصہ میں کھڑے ہوئے جو حضرت مسیح موعود اللہ کے زمانہ میں تھا۔اور بعد میں جو جماعت کے چندوں سے بناوہ علیحدہ ایکسٹینشن (Extension) ہے۔آپ نے فرمایا کہ: تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہو ا جو تم لوگوں کا بنایا ہو ا ہے بلکہ میں اپنے میرزا کی مسجد میں کھڑا ہو ا ہوں“۔نیز فرمایا ” میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے اور یہ دونوں خادم ہیں۔وو السلام انجمن مشیر ہے۔اس کا رکھنا خلیفہ کے لئے ضروری ہے“۔اسی طرح فرمایا کہ: " جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ تو بہ سورۃ آل عمران۔آیت 104 الحکم نمبر 37 جلد 12۔مؤرخہ 6 جون 1908ء - صفحہ 8 کالم 2-3 و تاریخ احمدیت۔مؤلفہ مولا نا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 190۔مطبوعہ 2007ء - نظارت نشر و اشاعت قادیان۔بھارت