خطابات — Page 30
30 پس یہ تسلی کے الفاظ تھے جو آپ نے مومنین کو دئے۔اُن مومنین کو جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہونا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا رحم مسیح و مہدی کے ماننے والوں کے لئے جوش میں آئے گا اور دشمن چاہے جتنی بھی تعلیاں کرتا رہے، جتنے چاہے خوشی کے باجے بجاتا رہے، ڈھول پیٹتا ر ہے، یہ دائی خلافت علی منہاج نبوت اس مسیح کے ماننے والوں کے ساتھ وابستہ ہوچکی ہے جو ہر خوف میں انہیں امن کی نوید دیتی چلی جائے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ایسی تقدیر ہے جو اٹل ہے۔یہ حقیقی مومنوں کا مقدر ہے۔یہ چند او باش یا چند کم ظرف جو اپنے زعم میں بڑا اعلم رکھنے والے لوگ ہیں وہ اس تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔اس بات کی مزید تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا کھول کر رسالہ الوصیت میں فرمایا اور جماعت کو تسلی دی۔آپ کو علم تھا کہ جس طرح ہمیشہ سے انبیاء کے مخالفین کا یہ کام رہا ہے، یہ شیو ورہا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کو خیال ہوتا ہے کہ اب یہ ختم ہوئے کہ ختم ہوئے۔اور مخالفین اور منافقین اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ یہ نظارہ دیکھیں کہ یہ جماعت اب کس طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوتی ہے۔لیکن وہ خدا جو اپنے انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ اپنی تقدیر دکھاتا ہے اور وہ خدا جس نے افضل الرسل اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دنیا میں بھیجا تھا تو اس نے یہ اعلان بھی کروایا تھا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ اور دائی رہنے والی شریعت ہے۔آپ کی وفات کے بعد امت پر کچھا اتلا تو آئیں گے لیکن جیسا کہ حدیث سے بھی واضح ہے آخر مسیح محمدی کی آمد کے بعد اس اسلام کے غلبہ کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو تا قیامت چلے گا۔گو مخالفتیں ہوں گی لیکن راستہ کی دھول کی طرح فضا میں بکھر جائیں گی۔پس