خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 58
خطابات طاہر جلد دوم 58 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء چنانچہ پوری طرح تیار ہو کر اور جذبے سے بھر کے یہ لوگ واپس گئے اور اُس وقت سے اب تک یعنی دو سال کے عرصے میں آپ کو پتا ہے کہ وہاں کتنی جماعتیں پیدا ہوچکی ہیں؟۷۸ نئی جماعتیں پیدا ہو چکی ہیں قادیان کے اردگرد اور صرف ۸۴ء میں ۴۹ نئے دیہات شامل ہوئے ہیں۔یہ سال جو وہ کہتے ہیں کہ، ہم بھی کہتے ہیں بعض دفعہ یونہی چھیڑنے کے لئے کہ تمہارا سال ہے۔تمہارا کہاں سے سال ہو گیا۔سارے سال ہمارے ہیں اور سارے ہمارے رہیں گے۔انشاء الله تعالی تمہارا سال کیسے؟ جن کے ساتھ سالوں کا مالک، جن کے ساتھ سالوں کا خالق ہے، سارے سال سارے دن رات ان کے رہیں گے کبھی بھی تمہارے نہیں بن سکتے اور اٹھارہ گجر ڈیروں میں اس کے علاوہ احمدیت قائم ہوئی، کہتے ہیں جہاں پھل لگتا ہے وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے۔یہ لکھ رہے ہیں رپورٹ کہ جب گجروں میں تبلیغ شروع ہوئی تو وہاں شدید مخالفت ہوئی اور ایک حاجی صاحب کا بڑا اثر ہے، ان کی اجازت کے بغیر یہ قدم بھی نہیں اٹھاتے مگر ان کی مخالفت کے باوجود پہلے پہل تو چند گجروں نے بیعت کی، پھر ان کو ڈرایا دھمکایا گیا ، احمدیت سے منحرف کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔چنانچہ انہوں نے ہی اپنے بیاہ شادیوں کے موقع پر قادیان سے معلم بلانے شروع کئے اور وہاں گفت وشنید کا سلسلہ چل پڑا چنا نچہ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور تو اور مذکورہ حاجی صاحب کے اپنے داماد اور دولڑکے اور بیوی اور بچے کل 26 افراد احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں۔اڑیسہ سے اطلاع ملی کہ وہاں علماء نے بہت اشتعال انگیزی کی اور جوش دلایا اور ساری فضا میں احمدیت کے خلاف نفرت پھیلا دی نتیجہ بعض نوجوانوں کو اتنا مارا گیا کہ لگتا تھا کہ وہ جان کھو دیں گے اپنی لیکن خدا تعالیٰ نے پھر ان میں سے ہی بعض شریف پیدا کئے ، جو پیشتر اس کے کہ وہ مر جاتے ان سے چھڑانے میں کامیاب ہو گئے اور حملے کی بھی سکیمیں بن رہی تھیں، بہت خوفناک حالات پیدا وگئے تو ایک دن کہتے ہیں! یہ واقعات ہو رہے تھے، دوسرے دن ان میں سے دو چوٹی کے تعلیم یافتہ اور بڑے معزز نو جوان آئے اور انہوں نے کہا کہ اب ہم پر سچائی ظاہر ہوگئی ہے، ہم بیعت کرتے ہیں اور بیعت کے بعد ان پر ابتلاء بھی خدا نے پھر نہیں آنے دیا۔ایسے واقعات وہاں فورا رونما ہوئے کہ جو احمدیت کا مخالف گروپ تھا ان کو اب اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، وہ چھپتے پھرتے ہیں ان کی دوسروں کے ساتھ دشمنیاں جو تھیں وہ اچانک جاگیں اور وہاں چونکہ مخالف زیادہ طاقتور ہیں اس ہو۔