خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 504
خطابات طاہر جلد دوم 504 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء تو یہ دیکھ لیں کہ یہ ایسی کامل دلیل ہے آنحضرت ﷺ کے سب دنیا کو مخاطب کرنے کی کہ اس زمانہ میں مشرقی حکومتوں کے سربراہوں کو بھی آپ نے خط لکھے اور روم کے بادشاہ کو جو مغرب کا حاکم تھا اس کو بھی خط لکھے اور دنیا میں کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں جس نے دنیا کے بادشاہوں کو مخاطب کر کے خط لکھے ہوں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی خاص شان ہے کہ آنحضرت ﷺ کو وہ خط لکھنے کی تو فیق عطا فرمائی۔خط بالکل سادہ تھے۔بسم اللہ سے شروع ہوتے تھے اور سادہ سی دعوت عام تھی کہ قبول کرلو۔أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا “ تم اسلام قبول کر لو تمہیں بھی سلامتی عطا کی جائے گی۔تو ان چھوٹے سے تھوڑے سے لفظوں میں بے انتہا رعب تھا۔یہاں تک کہ ایک بادشاہ نے جب یہ خط دیکھا تو اس کو چوما اور تخت سے نیچے اتر آیا۔پس آنحضرت ﷺ کے تھوڑے الفاظ میں بھی بہت رُعب تھا اور صداقت کی بات ہوتی تھی جو دل سے نکلتی تھی اور دل پر اثر کرتی تھی۔اب سورۃ التوبہ کی ۱۱۶ ویں آیت ہے اِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِ وَيُمِيْتُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيْ وَلَا نَصِيْرِ یقینا اللہ ہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا بھی ہے اور تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہیں۔ایک اور آیت ہے سورۃ بنی اسرائیل کی ۱۲ اویس وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِ وَكَثِرُهُ تَكْبِيرًا اور کہ کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے کبھی کوئی بیٹا اختیار نہیں کیا اور جس کی بادشاہت میں کبھی کوئی شریک نہیں ہوا اور کبھی اُسے ایسے ساتھی کی ضرورت نہیں پڑی جو گو یا کمزوری کی حالت میں اُس کا مددگار بنتا۔اب یہ کمزوری کی حالت میں اس کا مددگار بننا، اس کا معنی یہ ہے کہ بعض دفعہ انسان دوست بناتا ہے اس لئے کہ مشکل وقت میں وہ کام آئے گا مگر اللہ تعالیٰ جب دوست بناتا ہے تو اس لئے کہ کسی دوسرے کو جس کو دوست بناتا ہے اس کے مشکل وقت میں اس کے کام آئے۔تو گویا اس کا دوست بنانا کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ جس شخص کو دوست بناتا ہے اس کی کمزوری کے پیش نظر اس کا خیال رکھتا ہے اور اس کا ولی بن جاتا ہے۔اس کے بعد آخر پر ہے اور تو بڑے زور سے اُس کی بڑائی بیان کیا کر۔