خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 460
خطابات طاہر جلد دوم 460 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء دنوں میں تم ان دونوں قسم کے الہامات کو پورا ہوتے دیکھو گے جو اسلام کے دوسرے دینوں پر غلبے سے تعلق رکھتے ہوں گے اور احمدیت کے اپنے مخالفین پر غلبے سے تعلق رکھتے ہوں گے۔۱۸۹۸ءکا الہام ہے:۔آئندہ موسم بظاہر وہی معلوم ہوتا ہے۔جو کچھ الہاما معلوم ہوا تھا۔وہ خبر بھی اندیشہ ناک ہے میرے نزدیک ان دنوں میں دنیا کے عموم و ہموم کچھ مختصر کرنے چاہئیں۔۔۔دن بہت سخت ہیں۔۔۔مجھے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ دن دنیا کے لئے بڑی بڑی مصیبتوں اور موت اور دکھ کے دن ہیں۔“ مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحب مورخه ۲۱ / جولائی ۱۸۹۸ء مکتوبات احمد یہ جلد دوم صفحه : ۲۲۷) اب آپ دیکھ لیں۔کہ بعینہ اسی حال میں ہم دنیا کو دیکھتے ہیں۔جو بڑے بڑے خطرے آج کے سال کے ظاہر ہوئے ہیں۔جس طرح کثرت سے موتا موتی لگ رہی ہے۔ہر طرح کی بلائیں منہ پھاڑے ہوئے انسانیت کو نگلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ایسا سال آپ نے پہلے شاذ ہی کوئی دیکھا ہو گا۔مجھے تو کوئی ایسا سال یاد نہیں جو کچھ اس سال میں ہو رہا ہے۔خصوصیت سے احمدیت کے مخالفین کے ساتھ اگر عبرت کی آنکھیں ہوں وہ ایک عبرتناک نشان ہے۔پھر ۱۸۹۸ء کا الہام :۔میں نے تہجد میں اس کے متعلق (یعنی طاعون کا ذکر ہو رہا تھا۔طاعون کے متعلق ) دعا کی تو الہام ہوا۔ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم ( تذکره صفحه:۲۶۰) اللہ تعالیٰ ہرگز کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنے حالات خود درست نہ کر لیں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔اب طاعون کے تعلق میں یہ بات ہے۔اور بار ہا میں جماعت کو پہلے متوجہ کر چکا ہوں کہ دنیا میں خصوصیت سے اس صدی کے آخری دور میں جو ایڈز کی بیماری پھیلی ہے یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطابق طاعون ہی کی ایک شکل ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ نے بھی اس بیماری کو بے حیائی سے باندھا ہے اور طاعون ہی کی ایک شکل کے طور پر اس کی وضاحت فرمائی ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ۱۸۹۸ء کا یہ الہام دراصل اس زمانے میں جو ایڈز سے انسانیت کو خطرات درپیش ہیں ان سے متعلق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔