خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 458
خطابات طاہر جلد دوم 458 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء یہاں تک کہ میرا کلام مشرق و مغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے۔یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔الحکم ۱۸۹۸ء میں یہ عبارت چھپی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الہامات کا ذکر کیا تھا اور ایڈیٹر نے اس بات کو اپنی طرف سے پیش کیا ہے۔حضرت اقدس سید نا میرزا صاحب ایدہ اللہ نے کم و بیش ہر قوم کو تبلیغ کی ہے اور تبلیغ کے متعلق نت نئے سامانوں اور ذریعوں کا میسر آتے جانا اس عزیز خدا کے وعدہ کی صداقت کو خوب ظاہر کر رہا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔(الحکم جلد ۲ نمبر ۶،۵ - مورخہ 27 / مارچ ۱۸۹۸ء صفحه ۱۳) پس آج جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچ چکی ہے اور یہ کنارے پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔یہ بھی ۱۸۹۸ء کے اس الہام کی ایک برکت ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔فرمایا:۔خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دے دی ہے کہ بہت سے اس جماعت میں سے 66 ہیں جو ابھی اس جماعت سے باہر اور خدا کے علم میں اس جماعت میں داخل ہیں۔“ بکثرت ایسے لوگوں کی اطلاع مل رہی ہے جو پاکستان میں بھی بڑھتے جارہے ہیں اور بیرونی دنیا میں بھی ، عرب دنیا میں بھی، ہر طرف ان کی تعداد بڑھ رہی ہے جو دل سے جماعت سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ کے علم میں ہیں کہ ان لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس اسلام کی احیاء نو کی تحریک سے کیسی محبت ہو چکی ہے۔فرمایا: بار بار ان لوگوں کی نسبت یہ الہام ہوا۔یخــون ســجــدا ربنا اغفر لنا انا کنا خاطئین۔یعنی سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کیونکہ ہم خطا ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۶) پر تھے۔“ ۱۸۹۸ء میں ہی ضرورۃ الامام میں یہ تحریر شائع ہوئی۔