خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 455

خطابات طاہر جلد دوم 455 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء کرنے والوں کا حال کہ کس طرح اللہ تعالیٰ خود ان کی مددفرماتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ عرض کی تھی۔یادرکھیں کہ بھروسہ اس نیت سے نہیں کرنا کہ وہ ضرور اس معاملہ میں آپ کی مدد فرمائے گا۔جب بھروسہ اس نیت سے کریں گے تو بھروسہ ختم۔پھر ایک قسم کا سودا شروع ہو جاتا ہے۔جن صاحب سے خدا نے یہ شفقت کا سلوک فرمایا انہوں نے سودا نہیں کیا تھا۔وہ ہر انجام کے لئے تیار بیٹھے تھے لیکن یہ دل کا فیصلہ تھا کہ انسان کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان کے جلسہ کی اپیل کرتے ہوئے ایک اشتہار میں فرماتے ہیں: جمیع احباب مخلصین سے التماس۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ’بعد ہذا بخدمت جمیع احباب مخلصین سے التماس ہے کہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو مقام قادیان میں اس عاجز کے محبوں اور مخلصوں کا ایک جلسہ منعقد ہوگا۔اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کی معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے ماسوا اس کے جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں۔کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ 66 یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے قبول کرنے کے لئے طیار ہورہے ہیں۔“ پس اس زمانہ میں یہ توقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھیں اور آپس میں مل کر یہ تدبیریں بھی سوچنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں کے دل اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیں، ہمیں ان کیلئے کیا کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں۔اور مکر رلکھا جاتا ہے کہ اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ