خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 444 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 444

خطابات طاہر جلد دوم 444 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء حضرت اقدس نے جواب دیا کہ یہ آپ کے پہلے اقرار کے خلاف ہے۔آپ نے خود جو شرطیں لکھی تھیں ان شرطوں کو میں من و عن تسلیم کر چکا ہوں۔ان شرطوں میں ایک سال والی بات موجود ہے۔پس آپ کے پہلے اقرار سے پھرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔علاوہ اس کے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اُس کے حکم سے زیادہ نہیں کر سکتا۔اُس نے مجھے ایک سال کا وعدہ فرمایا ہے۔میں اپنی طرف سے تو باتیں بنا نہیں رہا چونکہ خدا نے مجھے ایک سال کا کہا ہے۔میں ایک سال پر قائم رہوں گا۔ہاں اگر معیاد کے اندر کوئی زیادہ تشریح خدا تعالیٰ کی طرف سے کی گئی تو میں اُس کو شائع کر دوں گا۔مگر کوئی عہد نہیں۔آپ اگر اپنی بہادری پر قائم ہیں تو ایک سال کی شرط قبول کر لیں۔میں یہ اقرار بھی کرتا ہوں کہ صرف اس حالت میں یہ نشان نشان سمجھا جائے گا۔جب کسی انسانی منصوبہ سے آپ کی موت نہ ہو اور کسی دشمن بداندیش کے قتل کا شبہ نہ ہو۔لالہ گنگا بشن نے اب کی دفعہ یہ شرط بھی زائد کی تھی کہ اگر آپ جھوٹا نکلنے کی صورت میں پھانسی دیئے جائیں۔تو لاش گنگا پشن کے حوالے کی جائے جو چاہے تو جلا دے یا دریا بُر د کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس شرط کی منظوری کا بھی اعلان فرماتے ہیں اور آپ نے اس کے ساتھ لکھا۔” میرے نزدیک بھی جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلت کے لائق ہے اور یہ شرط در حقیقت بہت ضروری تھی جو لالہ گنگا بشن صاحب کو عین موقع پر یاد آگئی لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں۔ہم نے مناسب نہیں دیکھا کہ ابتداء اپنی طرف سے یہ شرط لگا دیں مگر اب چونکہ لالہ گنگا بشن صاحب نے بخوشی خود یہ شرط قائم کر دی ہے اس لئے ہم بھی تہہ دل سے شکر گزار ہو کر اس شرط کو قبول کر کے اسی قسم کی شرط اپنے لئے قائم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ گنگا پشن صاحب حسب منشاء پیشگوئی مر جائیں تو ان کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشانِ فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے اور ہم اس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشان فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر کسی عام مندر میں یالا ہور کے عجائب گھر میں رکھوا دیں گے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ: ۸۵-۸۶) کس شان کا انسان ہے۔کیسی باتیں کرتا ہے۔جس شخص نے خود قتل کا منصوبہ بنایا ہو اس کو