خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 426
خطابات طاہر جلد دوم 426 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء فرمائی گئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ برات تو ہے مگر یہ کیا واقعہ ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیسے ممکن تھا؟ ہمیں اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔پس دیکھیں اسی سال میں یہ دونوں متھے اسی طرح معنے بنے رہے جن کو خدا کی تقدیر ہی سمجھ سکتی ہے اور کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ ان کو حل کر سکیں۔عام طور پر یہ جو افتتاحی تقریر ہوا کرتی ہے یہ ایک گھنٹے کے اندر ختم ہو جاتی ہے۔مختصر باتیں نصیحتیں ، السلام عليكم وعليكم السلام بس یہاں تک چلتی ہے۔مگر اس دفعہ لیکھرام کا سال ہونے کی وجہ سے اس میں کچھ اضافہ کرنا پڑے گا۔ممکن ہے ڈیڑھ ، دو گھنٹے تک یہ تقریر چلے لیکھرام کا جو تعارف ہے خلاصۂ ۱۸۵۹ء میں سید پور ضلع جہلم میں پیدا ہوا۔ضلع جہلم سے معذرت کے ساتھ۔۱۸۸۱ء میں پشاور میں آریہ سماج قائم کی۔اہلِ پشاور سے معذرت کے ساتھ۔معذرت اس لئے کہ یہ شخص اتنا منہ پھٹ تھا اور اس قدر دیدہ دلیر تھا کہ حضرت رسول اللہ کے خلاف کسی دشمن نے اتنی خبیثا نہ زبان استعمال نہیں کی جتنا یہ شخص کرتا رہا اور مسلسل آخر وقت تک اُسی پر قائم رہا۔پس چونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا ایک دشمن ہے۔جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ جہلم میں پیدا ہوا اور پشاور میں اُس نے اپنی شرارتوں کی بناء ڈالی اس لئے میں ان دونوں یعنی جہلم اور پشاور کے باشندوں سے معذرت کے ساتھ یہ بات پیش کرتا ہوں۔۱۸۸۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہینِ احمد یہ شائع فرمائی۔اس وقت تک ابھی جماعت کی بناء نہیں ڈالی گئی تھی۔اس کے جواب میں لیکھرام نے تکذیب براہین احمد یہ حصہ اوّل اور دوم شائع کی۔یہ کتاب مغلظات کا مجموعہ ہے۔اس کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکھر ام سے صرف یہ جھگڑا تھا کہ تم ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دینی بند کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کہتے رہے بار بار کہتے رہے کہ مجھے تم سے کوئی جھگڑا نہیں۔صرف میرے آقا و مولا کو کچھ نہ کہو تو اسی پر بس ہے میرا تمہارے ساتھ مقابلہ ختم ہو جائے گا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۸۶ء میں وہ معرکۃ الآراء کتاب تصنیف فرمائی جو سرمه چشم آریہ کے نام سے معروف ہے اور اس کتاب میں آپ نے پہلی بار آریوں کو دعوت مباہلہ دی اور آپ کے الفاظ یہ ہیں۔