خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 418

خطابات طاہر جلد دوم 418 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء سال سے جماعت احمدیہ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھر گیا کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آسمانی تائید تھی جو مجھے ان مضامین کو آپ کے سامنے پیش کرنے پر آمادہ کر رہی تھی۔اُس جلسہ کی خصوصیات جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔اوّل یہ کہ آٹھ دن جاری رہا۔آج بھی ۲۵ تاریخ ہے ، یہ جلسہ بھی ۲۵ دسمبر کو شروع ہوا تھا اور یکم جنوری کو اختتام پذیر ہوا اور یہ پہلا جلسہ ہے اور آخری جلسہ ہے جس کی تمام روئیداد محفوظ کی گئی۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی جلسہ کی تمام تر روئیدادمحفوظ نہیں کی گئی اور شائع کی گئی اور آج وہ روئیداد مکمل طور پر ہمارے سامنے ہے۔دیگر تقاریر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ دیگر مقررین نے کی تھیں ان میں ایک حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی تقریر تھی۔”جو قر آنی تحریوں اور پیشگوئیوں کے فلسفہ اور اعجاز قرآنی پر مشتمل دو تقاریر تھیں۔پس حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اس جلسہ میں دو تقاریر پیش کرنے کا موقع ملا جو تمام تر قرآنی اعجاز کے تعلق میں تھیں۔دوسری تقریر حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب بھیروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی۔آپ نے آیت استخلاف پر تقریر فرمائی اور اُس کی ایک بہت ہی لطیف تشریح پیش فرمائی۔یہ دونوں تقاریر بھی محفوظ ہیں۔۱۸۹۷ء احمدیت کے لئے برکتوں اور نصرتوں کا سال اور غیروں کے لئے عام الحزن تھا۔یہ بات آپ کے یادرکھنے کے لائق ہے کہ یہ وہ سال تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت سے پہلوؤں سے عظیم الشان نفرتیں عطا ہوئیں اور یہ وہ سال ہے جو اُس زمانہ کی تاریخ میں عام الحزن کہلا تا تھا کیونکہ طرح طرح کے آسمانی اور زمینی ایسے عذاب نازل ہوتے رہے اور اس کثرت سے دنیا کو دکھ ملے کہ اُس زمانہ کے لکھنے والوں نے اُس سال کو عام الحزن قرار دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں یہ سال بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں درین صفحہ :۵۰) کی صورت میں ظاہر ہوا اور بہت کثرت کے ساتھ احمدیت کے حق میں نشانات ظاہر ہوئے۔۱۸۹۷ء اپنی نوع کے لحاظ سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے ایک غموں کا سال کہلاتا ہے۔قحط، مصائب و شدائد کثرت سے